بنگال ایس آئی آر ‘ عدالتی عہدیداروں کا تقرر

   

زندگی ہم سے ترے ناز اٹھائے نہ گئے
زندہ رہنے کی فقط رسم ادا کرتے تھے
مغربی بنگال میں ایس آئی آر کا عمل بہت زیادہ قانونی کشاکش کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے اور ریاستی حکومت ا ور الیکشن کمیشن کے مابین جو الزامات اورجوابی الزامات چل رہے ہیں ان کی وجہ سے صورتحال مضحکہ خیز بن گئی ہے ۔ یہ مسئلہ کئی شکایات کے ساتھ عدالتوں میں زیر دوران ہے ۔ بنگال کی ممتابنرجی حکومت ہو یا پھر الیکشن کمیشن ہو دونوں ہی ایک دوسر پر الآمات عائد کرنے میں مصروف ہیں اور کوئی بھی ایک دوسرے کے موقف کو سمجھتے ہوئے کام کو آگے بڑھانے تیار نہیں ہے ۔ ہر فریق دوسرے فریق کو ہی تعطل کیلئے ذمہ دار قرار دیتا ہے ۔ یہ صورتحال ایسی ہے جس کے نتیجہ میں ایس آئی آر کا عمل تکمیل کے قریب پہونچ کر بھی مکمل نہیں ہو پا رہا تھا ۔ لاکھوں افراد کے اعتراضات اور ادعا جات کی جانچ کا کام رکا ہوا ہے ۔ الیکشن کمیشن اور ریاستی حکومت کے مابین رسہ کشی کی صورتحال میں ووٹرس کیلئے مشکل صورتحال پیدا ہوگئی تھی اور وہ اپنے ناموں کے اندراج کے تعلق سے فکرمند ہوگئے تھے ۔ اب سپریم کورٹ نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد غیرمعمولی احکام جاری کرتے ہوئے کلکتہ ہائیکورٹ کو ہدایت دی کہ وہ جوڈیشیل عہدیداروں کا تقرر عمل میں لائے اور انہیں ایس آئی آر کا عمل مکمل کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے ۔ انہیں دیگر فرائض سے بری کردیا جائے ۔ سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ غیرمعمولی صورتحال کے پیش نظر اسے بھی غیر معمولی احکام جاری کرنے کی نوبت آئی ہے کیونکہ حکومت اور کمیشن کے مابین کام کاج کی بجائے الزامات و جوابی الزامات کا سلسلہ چل رہا ہے اور ایسے میں ضروری ہے کہ ایس آئی آر کے عمل کو مکمل کیا جائے ۔ عدالت کا یہ فیصلہ اور یہ ریمارک انتہائی اہمیت کا حامل کہا جاسکتا ہے کیونکہ اکثر و بیشتر دیکھا جا رہا ہے کہ ایک فریق دوسرے سے تعاون کرنے کو ہرگز تیار نہیں ہے بلکہ ایک فریق کی جانب سے دوسرے فریق کے کام کاج میں رکاوٹیں پیدا کرنے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے ۔ جہاں تک الیکشن کمیشن کا سوال ہے تو اس کا موقف انتہائی غیرلچکدار اور اٹل رہا ہے جس کی وجہ سے ریاستی حکومت کو بھی سخت موقف اختیار کرنا پڑا ہے ۔
الیکشن کمیشن اور ریاستی حکومت ہر دو فریق دستوری اہمیت کے حامل ہیں اور انہیں ایک دوسرے کو سمجھنے اور آپسی تال میل اور اشتراک سے کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جس کا فقدان دکھائی دیا ہے ۔ خاص طور پر الیکشن کمیشن جس طرح ہٹ دھرمی والا رویہ دکھا رہا ہے وہ قابل تشویش ہے ۔ کئی مواقع پر عدالتوں کو احکام جاری کرتے ہوئے کمیشن کے موقف میں تبدیلی لانی پڑی تھی ۔ اپوزیشن جماعتوں کا یہ لگاتار الزام ہے کہ مرکزی الیکشن کمیشن بی جے پی اور مرکزی حکومت کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہا ہے اور اس کے اقدامات انتخابات میں بی جے پی کو فائدہ پہونچانے والے ہیں۔ کمیشن سے کئی امور پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سوال پوچھے جا رہے ہیں اس کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن کمیشن کسی کو بھی خاطر میں لانے تیار نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی کا جواب دینے کو تیار ہے ۔ بنگال میں خاص طور پر کمیشن نے انتہائی سخت گیر موقف اختیار کیا ہوا ہے اور ممتابنرجی کی حکومت نے بھی اس معاملے میں کسی طرح کی نرمی نہیں دکھائی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں فریقین کی سخت مزاجی کی وجہ سے ایس آئی آر کا عمل تکمیل تک نہیں پہونچ پا رہا ہے ۔ یہاں تقریبا 20 لاکھ افراد کے ناموں پر مسئلہ ہے ۔ ان کے ادعا جات اور اعتراضات کی سماعت کی جانی چاہئے اور اس پر فیصلہ کیا جانا باقی ہے تاہم یہ کام تعطل کا شکار ہوگیا ہے اور سپریم کورٹ نے اسی کام کو آگے بڑھانے کیلئے کلکتہ ہائیکورٹ کو جوڈیشیل عملہ فراہم کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے ۔
جوڈیشیل عملہ کی فراہمی سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہو رہی ہے تاہم یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں جن لاکھوں افراد کے ناموں پر مسئلہ ہے اور جن کے اعتراضات اور ادعا جات کی سماعت کی جانی ہے ان کے ساتھ انصاف ہوسکتا ہے ۔ الیکشن کمیشن کا عملہ جس طرح سے من مانی انداز میں کام کر رہا تھا جوڈیشیل عملہ اس طرح سے کام نہیں کرے گا ۔ رائے دہندوں کو عدالتی عملہ سے رجوع ہوتے ہوئے اپنے ناموں کے تعلق سے ادعا جات داخل کرنے اور دستاویزات کی تنقیح و جانچ کروانے کا بہتر موقع ہاتھ آیا ہے اور اس سے استفادہ کیا جانا چاہئے ۔ ریاستی حکومت اور الیکشن کمیشن کو بھی اس میں تعاون کرنا چاہے ۔