بنگال میں سیاسی افرا تفری

   

Ferty9 Clinic

زمین جاگ رہی ہے کہ انقلاب ہے کل
وہ رات ہے کہ کوئی ذرّہ محوِ خواب نہیں
مغربی بنگال میں جاریہ سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اس کیلئے اپنے اپنے طور پر تیاری میں جٹ گئی ہیں۔ ہر جماعت اپنے طور پر بہتر کارکردگی دکھانے کی حکمت عملیاور منصوبے بنانے میں مصروف ہے ۔ یہ سیاسی جماعتوں کا کام ہی ہے اور وہ ہر بار انتخابات سے قبل ایس کرتی ہیں۔ تاہم اس بار مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کو میدان جنگ میں تبدیل کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں اور ریاست میں سیاسی افرا تفری کا ماحول پیدا کردیا گیا ہے ۔ حسب روایت انتخابات سے قبل مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کی سرگرمیوںکو بنگال میں بڑھا دیا گیا ہے وہاں دھاوے کئے جا رہے ہیں۔ سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے ۔ انہیں ہراسانیوں کا سلسلہ شوع کردیا گیا ہے اور ساری ریاست کا ماحول بگڑنے لگا ہے ۔ بی جے پی بنگال میں تین مرتبہ سے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ہر بار اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑ رہا ہے ۔ گذشتہ مہینوں میں بہار میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے کی کامیابی کے بعد پارٹی کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں اور پارٹی نے مغربی بنگال کیلئے خاص حکمت عملی بنائی ہے اور چاہتی ہے کہ اس کی چوتھی کوشش کامیاب رہے اور اسے ریاست میں اقتدار حاصل ہوجائے ۔ انتخابات لڑنا اور کامیابی کیلئے جدوجہد کرنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے لیکن جس طرح سے مخالفین کو نشانہ بناتے ہوئے خود کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ افسوسناک کہی جاسکتی ہے ۔ بنگال میں ممتابنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس تین بار سے عوامی تائید حاصل کر رہی ہے اور اسے چوتھی بار بھی کامیابی کی امید ہے ۔ اسی وجہ سے بی جے پی نے ترنمول کی حکمت عملی میں مدد کرنے والی سیاسی مشاورتی ادارے آئی ۔ پیاک کو نشانہ بنایا ہے ۔ اس کے دفتر پر ای ڈی کی جانب سے دھاوا کیا گیا ہے اور اس کے بانی پراتیک جین کے گھر پر بھی دھاوا کیا گیا ہے ۔ ترنمول کانگریس کا الزام ہے کہ پارٹی کی انتخابی حکمت عملی اور اس کے منصوبوں کو حاصل کرنے کیلئے ای ڈی نے یہ دھاوا کیا ہے ۔
ای ڈی حالانکہ اس کی تردید کرتی ہے لیکن ترنمول کے دعوے برقرار ہیں۔ آئی ۔ پیک کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس وقت آئی پیک کے دفتر پر دھاوا چل رہا تھا اسی وقت چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی خود وہاں پہونچ گئیں۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ چیف منسٹر نے اپنے دستوری عہدہ کا بیجا استعمال کرتے ہوئے سرکاری عملہ کو اپنے کام کاج کی انجام دہی سے روکا ہے ۔ ممتابنرجی کا الزام ہے کہ ای ڈی نے ترنمول کی حکمت عملی اور منصوبہ کی تفصیل حاصل کرنے یہ دکھاوا کیا تھا تاکہ اس کی تفصیلات سے بی جے پی کو واقف کروایا جاسکے ۔ ممتابنرجی اس دھاوے کے خلاف سڑکوں پر اتر آئی ہیں اور انہوںن ے آج کولکتہ کی سڑکوں پر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ہے ۔ یہ سیاسی لڑائی اب مزید شدت بھی اختیار کرنے لگی ہے ۔ اس معاملے کی سماعت کرنے والی عدالت سے معزز حج بھی چلے گئے اور عدالت میں زیادہ ہجوم کی وجہ سے سماعت نہیں ہوسکی ۔ ای ڈی کی جانب سے ترنمول اور آئی ۔پیک کے خلاف شکایت درج کروائی گئی ہے جبکہ ترنمول اور آئی ۔ پیاک نے بھی ای ڈی کے خلاف شکایت درج کرواتے ہوئے اسے سیاسی انتقام پر مبنی کارروائی قرار دیا ہے ۔ اس طرح یہ واضح ہوگیا ہے کہ بنگال کی سیاسی لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے اور انتخابی فائدہ حاصل کرنے کیلئے سیاسی جماعتیں کچھ بھی کر گذرنے سے گریز نہیں کریں گی ۔ چاہے اختیارات کا بیجا استعمال ہو یا پھر سرکاری ایجنسیوں کا بیجا استعمال ہو ‘ سب کچھ کیا جائے گا ۔
بی جے پی ہو یا پھر ترنمول کانگریس ہو انہیں اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ اقتدار کے نشہ میں سرکاری اختیارات یا ایجنسیوں کا بیجا استعمال ہرگز نہیں ہونا چاہئے ۔ انتخابات عوامی مسائل پر لڑے جانے چاہئیں۔ کارکردگی کو بنیاد بنانا چاہئے ۔ مستقبل کے منصوبوں کو پیش کیا جانا چاہئے اور پھر عوام کی رائے حاصل کی جانی چاہئے ۔ سیاسی اختلافات کو سیاست سے محدود رکھا جانا چاہئے اور اختلافات کے معیار کا بھی خاص خیال رکھا جانا چاہئے ۔ غیر واجبی اور ناجائز طریقوں سے اقتدار حاصل کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ ساری ریاست کا ماحول متاثر کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔