بنگال میں ممتا بنرجی کو اقتدار سے بیدخل کرنے بی جے پی کی جان توڑ کوشش

   

روش کمار
مغربی بنگال میں بی جے پی ، ممتا بنرجی حکومت کو ہر حال میں اقتدار سے بیدخل کرنا چاہتی ہے ، اس سلسلہ میں خود ممتا بنرجی نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی قیادت الیکشن کمیشن سے سازباز کے ذریعہ ٹی ایم سی کو اقتدار سے ہٹانے کی پوری پوری کوشش کررہی ہے ۔ ممتا بنرجی نے پرزور انداز میں کہا ہے کہ الیکشن کے دوران اُن کی پارٹی سے جڑے لوگوں کو ہر دن ای ڈی کے دھاووں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ان کی پارٹی کی مشنری کو دھاووں کے ذریعہ ڈرایا جارہا ہے ۔ ممتا بنرجی کی بات سے بہار کے الیکشن کی یاد آتی ہے ۔ آپ بھی یاد کیجئے پرشانت کشور آئے دن نتیش کمار وزراء ، بی جے پی کے لیڈران پر کرپشن کے الزامات عائد کررہے تھے ، پریس کانفرنس کررہے تھے کیا وہاں ای ڈی سرگرم نظر آئی ؟ پھر بنگال کے چناؤ میں دھاووں کا کیا مطلب ہے ؟
اتوار کو کولکتہ پولیس کے اسپیشل برانچ کے ڈی سی پی شانتانو سنہا بسواس کے گھر ای ڈی نے چھاپہ مارا ، جوائے کامدار نامی ایک تاجر کی گرفتاری ہوئی جن پر سنگین طورپر منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں۔ ممتا بنرجی نے کہا ہے کہ جو فرد میرا انکم ٹیکس فائیل کرتا ہے اُس کے یہاں بھی ای ڈی نے چھاپے مارے جو اُن کی سکیورٹی کا نگران ہے اُس کے یہاں بھی چھاپہ پڑا ، اس لئے ہم نے سوچا کہ مغربی بنگال سے جڑی اس طرح کی خبروں کو پیش کرتے ہیں تاکہ ایسی تصویر آپ کے سامنے رہے کہ کس طرح سے وہاں انتخابات کروائے جارہے ہیں ۔
ٹیلیگراف اخبار نے ذرائع کے حوالوں سے صفحہ اول پر 20 فبروری کو ایک خبر شائع کی جس میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے کم از کم 1000 ایسے لوگوں کی فہرست بنائی ہے جو انتخابات میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں ، انھیں ٹیلیگراف نے Trouble Makers لکھا ہے ۔ یہ تمام ٹی ایم سی کے لیڈران اور قانون ساز بتائے جاتے ہیں ۔ ٹیلیگراف نے لکھا ہے کہ یہ جانکاری واٹس ایپ کے ذریعہ پولیس عہدیداروں کے ساتھ بانٹی جارہی ہے ۔ عہدیداروں کو سمجھ نہیں آرہا ہے کہ کوئی تحریری حکم نہیں اس کے بغیر کیا کارروائی کریں۔ ٹیلیگراف نے ترنمول کانگریس کے 9 ارکان اسمبلی کے نام بھی صفحہ اول پر چھاپے ہیں جنھیں الیکشن کمیشن کی اس فہرست میں Trouble Makers بتایا گیاہے ۔
ہم اپنی طرف سے اس فہرست کی تصدیق نہیں کرسکتے اور نہ کررہے ہیں لیکن اس اخبار میں خبر شائع ہوئی ہے وہ آپ کو بتارہے ہیں ۔ کیا ایسی کوئی فہرست بی جے پی لیڈروں اور ارکان اسمبلی کی بھی بنی ہے ، بنی ہوگی کیا ۔ الیکشن کمیشن رائے دہی کے دن بتائے گا کہ رائے دہی کے دن کتنے لوگوں کو نظربند کیا جارہاہے ۔ ان میں کس پارٹی کے کتنے لوگ ہیں۔ الیکشن کمیشن کو بتانا چاہئے کیا Trouble Makers کی فہرست کارکنوں و قائدین کو ڈرانے ، حامیوں کے حوصلہ پست کرنے کیلئے ہی بنائی جارہی ہے ۔
اگلی خبر جو اور بھی تشویش میں مبتلا کرنے والی ہے سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ جن رائے دہندوں کے نام فہرست رائے دہندگان میں نہیں آئے ہیں اور انھوں نے اپیلیٹ ٹریبونل میں اپیل کی ہے اگر اُن کی اپیل پر فیصلہ 21 اپریل تک آجاتا ہے تو وہ 23 اپریل کے پہلے مرحلہ کی رائے دہی میں ووٹ ڈال سکیں گے اور جن کی اپیل پر فیصلہ 27 اپریل تک آجاتا ہے وہ 29 اپریل کو دوسرے مرحلہ کی رائے دہی میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرسکیں گے ۔ 24 مارچ کو جب ایس آئی آر کی سپلمنٹری لسٹ آئی اس میں 27 لاکھ نام باہر رہ گئے ۔ پہلے تو عدالت نے 27 لاکھ رائے دہندوں کو راحت دینے سے انکار کردیا کہ اُن کی قطعی لسٹ آچکی ہے ، اب اس چناؤ میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے مگر اُن کے معاملوں کی سماعت چلتی رہے گی ۔ تنقیدیں ہوئی ، بہت ساری باتیں ہوئیں پھر عدالت نے اپنا موقف بدلا اور کہا کہ اپیلیٹ ٹریبونل اس دوران سماعت کرے گا لیکن پتہ چلا کہ ٹریبونل تو سماعت ہی نہیں کررہا ہے ۔
ایران ۔ امریکہ امن مذاکرات
اب چلتے ہیں ایران ۔ امریکہ امن مذاکرات کی طرف پہلے دور کے مذاکرات میں کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے ۔ دوسرے دور کی بات چیت اسلام آباد میں ہونے والی تھی لیکن ایران نے ان مذاکرات میں حصہ بننے کیلئے اپنی کوئی بھی ٹیم اسلام آباد نہیں بھیجی ۔ ایران کے وزارت خارجہ نے صاف صاف کہدیا کہ بات چیت میں شامل ہونے اس کا کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں سے ٹرمپ کیا کریں گے ؟ پھر سے ایک اور جنگ بندی یا جنگ ، رکی ہوئی جنگ اور رکی ہوئی بات چیت ، ان سب کے درمیان برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جنرل ڈرمب کا جوکر کی طرح لگنا ۔ ٹرمپ تو جنگ سے نکلنا چاہتے تھے اور ایران کے اس انکار کے بعد ان کا جنگ سے باہر نکلنا پہلے سے مشکل ہوجائے گا ۔ ٹرمپ کے پاس امکانات بہت کم ہیں ، اُن کے بیانات سے لگتا ہے کہ وہ جنگ اور بات چیت دونوں سے اب بور ہونے لگے ہیں۔ میدان سے جانا چاہتے ہیں جا بھی نہیں پارہے ہیں ۔ ایران اب ٹرمپ کو سکون سے واپس ہونے کا راستہ نہیں دے گا ۔ بمباری سے بہتر ہے اس طرح کی اُکتاہٹ کو سہتے رہنا ۔
امریکہ کی عوام بھی ٹرمپ سے اُکتا چکی ہے ۔ جس ملک کی فوج حالت جنگ میں ہو ، اُس کے عوام اپنی فوج کے کمانڈر انچیف سے بور ہوجائے ، فوج کے ہی سکیوریٹی عہدیدار اُس کی مخالفت کرنے لگیں اس سے بُرا اور بور کچھ بھی نہیں ہوسکتا ۔20 اپریل کو فوج سے ریٹائرڈ ہوچکے فوجی اور اُن کے خاندانوں کے ارکان واشنگٹن میں کانگریس کی ایک پرانی عمارت کیننن ہاوز آفس پہنچ گئے اور جنگ کی مخالفت کرنے لگے ۔ اُن کی شرٹس پر لکھا ہے ۔ ویٹرنس اگنسٹ فاشزم ’’Veterans Against Fascism ‘‘ ۔ اُن کے ہاتھوں میں پھول ہیں جو اُن ایرانیوں کی یاد میں پکڑے گئے ہیں جنھیں امریکہ نے اپنے حملوں میں مارا ہے ۔ سیاہ پوسٹرس پر لکھا ہے ’’جنگ ختم کیجئے ہم ایک اور جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے ‘‘۔ کچھ کے گلے میں فلسطینی کیفیہ بھی لپٹا ہوا ہے اُن میں 60 سے زیادہ سابق فوجیوں کو گرفتار کرلیا گیا ۔ خبر یہ ہے کہ وائیٹ ہاؤس کو Cover کرنے والے صحافیوں کے عشائیہ میں ٹرمپ جانے والے ہیں ۔ ٹرمپ نے میڈیا کے ساتھ عام ڈنر بند کردیاتھا مگر اس مرتبہ آرہے ہیں ۔ تین سو صحافیوں نے لکھا یہ جو صحافی ڈنر میں جائیں گے وہ تمام جنگ کی مخالفت کریں اور ٹرمپ کے سامنے ہی اُن کی مذمت کریں تو دباؤ سینئر صحافیوں پر بھی ہے ۔
ٹرمپ نے ارمان سجائے ہوں گے کہ واشنگٹن میں ایک فاتح کی طرح خیرمقدم ہو اور ہاتھی پر بیٹھ کر تہران جائیں ۔ جس طرح ٹرمپ دو ماہ سے ٹیرف کو بھول چکے ہیں دنیا نے اُن کی ٹیرف دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینا چھوڑ دیا ہے ۔ لگتا ہے کہ ٹرمپ جنگ سے بھی کنارے ہوتے جارہے ہیں ۔ مجھے تو ڈونالڈ کو دیکھتے ہی طلعت محمود کا وہ گانا یاد آتا ہے ’’ سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا کیا ؟‘‘ ۔
جنگ ختم ہوچکی ہے کہتے کہتے ٹرمپ نے 52 دن نکال دیئے ۔ سنکی لگنے کے بعد بھی جس ٹرمپ کی باتوں سے سنسنی پیدا ہوتی تھی اب اُنھیں دیکھتے ہی لوگوں کو جماہی آنے لگی ہے ۔ اُن کے بارے میں اب کچھ بھی جاننے کو نہیں رہ گیا۔ جو لوگ اُنھیں سب سے پہلے جانتے تھے اب وہ اس بات کیلئے افسوس کا اظہار کررہے ہیں کہ غلط آدمی کی تشہیر کردی اور اسے اقتدار میں لے آئے ۔
52 دن ہوگئے آپ نے نوٹ کیا ہوگا ہر طرف ٹرمپ ہی ٹرمپ ہے ، نتین یاہو کو بھی سرخیوں میں بہت کم جگہ ملی ۔ آیت اﷲ علی خامنہ ای کی موت کو دو ماہ پورے ہونے جارہے ہیں ابھی تک اُن کی تدفین نہیں ہوئی ۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای عوام میں نظر بھی نہیں آئے وہ کس حالت میں ہیں یہ بھی صاف نہیں ۔ اُن کے ایک دو بیان ہی سامنے آئے مگر اُن کی مضبوط موجودگی کہیں نظر نہیں آئی جس سے محسوس ہو کہ کوئی نیا سپریم لیڈر ایران کی قیادت کررہا ہے ۔
11 اپریل کے اسلام آباد مذاکرات کے وقت علی خامنہ ای کے نہ ہونے کی جھلک دکھائی دی تھی ۔ علی خامنہ ای امریکہ کو لیکر سخت رویہ رکھتے تھے ۔ ایران نے کہا ہے کہ اس کی کوئی ٹیم اسلام آباد نہیں جانے والی ہے۔ ایران کے اندر کیا ہورہا ہے اس تعلق سے بہت کم ہی حالات باہر آرہے ہیں ۔