بنگلور عید گاہ میدان کی اراضی وقف تسلیم کرلی گئی

   

مہا نگر پالیکا دعویداری سے دستبردار، ہندو تنظیموں کی کوششوں کو جھٹکہ
حیدرآباد۔/22 جون، ( سیاست نیوز) ہندو تنظیموں کی جانب سے بنگلور کے عیدگاہ میدان میں تقاریب کی اجازت کے معاملہ نے آج اس وقت نیا موڑ لے لیا جب بنگلور مہا نگر پالیکا نے اراضی پر اپنی دعویداری واپس لیتے ہوئے اسے وقف تسلیم کرلیا۔ بنگلور مہا نگر پالیکا نے گزشتہ دنوں مذکورہ اراضی کو اپنی ملکیت قرار دیتے ہوئے دعویداری پیش کی تھی لیکن آج چیف کمشنر مہا نگر پالیکا تشار گریناتھ نے کہا کہ چامراج پیٹ میں واقع عیدگاہ میدان مہا نگر پالیکا کی ملکیت نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلدیہ کو عیدگاہ میدان پر یوم آزادی تقاریب کے انعقاد کی اجازت پر فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے احکامات سے مہا نگر پالیکا کے عہدیداروں کو واقف کرایا گیا اور وقف بورڈ نے ملکیت سے متعلق اپنی دعویداری پیش کی۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے عید گاہ اراضی کو وقف قراردیا ہے۔ کمشنر نے کہا کہ جس وقت شہر میں سروے کیا گیا اس وقت عید گاہ میدان کی ملکیت کا کسی نے دعویٰ نہیں کیا لہذا اراضی کو نگر پالیکا کی تحویل میں لیا گیا تھا۔ وقف بورڈ ملکیت کے بارے میں درخواست داخل کرسکتا ہے اور دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد ضروری کارروائی کی جائے گی۔ اسی دوران مولانا شفیع سعدی صدرنشین کرناٹک وقف بورڈ نے کمشنر بلدیہ کے بیان کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ بورڈ نے ملکیت کے بارے میں پہلے ہی درخواست پیش کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہا نگر پالیکا سے اجازت حاصل کرنے کے بعد عید گاہ کے اطراف کمپاونڈ وال تعمیر کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میدان پر کھیل کود اور یوم آزادی و یوم جمہوریہ تقاریب کے انعقاد پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ہندو تنظیمیں اراضی کو وقف تسلیم کرنے سے انکار کررہی ہیں۔ مسئلہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر بسوا راج بومائی نے اس معاملہ میں کمشنر بنگلور مہا نگر پالیکا سے بات چیت کرنے کا تیقن دیا ہے۔ر