بنگلہ دیش میں جبری گمشدگیوں سے آج بھی سینکڑوں خاندان سوگوار

   

ڈھاکہ : انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ کے 15 سالہ آہنی اقتدار کے دوران سینکڑوں بنگلہ دیشی جبری گمشدگیوں کا شکار ہوئے۔ بنگلہ دیش میں جبری گمشدگیوں کے معاملے کی تحقیقات کیلئے قائم ایک کمیشن نے گزشتہ ہفتہ اعلان کیا تھا کہ کم از کم 330 افراد جنہیں مبینہ طور پر حکام نے اٹھایا تھا، ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ جان سے جا چکے ہیں۔ معین الاسلام چودھری، جو کہ جبری گمشدگیوں پر انکوائری کمیشن (سی ای ای ڈی) کی سربراہی کر رہے ہیں، نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ شیخ حسینہ کی سربراہی میں خدمات انجام دینے والے اعلیٰ حکام ان جرائم میں منظم طور پر ملوث تھے۔ گزشتہ اگست میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد حسینہ مستعفی ہو کر پڑوسی ملک بھارت فرار ہو گئیں، اور فی الحال وہیں مقیم ہیں۔ بنگلہ دیشی انسانی حقوق کی تنظیم اودھیکار کے مطابق، حسینہ کے 15 سالہ دور حکومت میں، 2009 سے 2024 تک، 700 سے زائد جبری گمشدگیوں کی اطلاعات ہیں۔