بنگلہ دیش ‘ نئی حکومت کا حلف

   

دربار میں جانا میرا دشوار بہت ہے
جو شخص قلندر ہو گدا ہو نہیں سکتا
بنگلہ دیش میں بالآخر عوام کی منتخبہ جمہوری حکومت قائم ہوگئی ہے ۔ ملک کے نئے وزیر اعظم کی حیثیت سے بی این پی کے سربراہ طارق رحمن نے وزارت عظمی کا حلف لے لیا ۔ بنگلہ دیش کے صدر شہاب الدین نے طارق رحمن اور دیگر وزراء کو حلف دلایا ۔ بنگلہ دیش میں 2024 کی عوامی بغاوت کے بعد پہلی مرتبہ عوامی منتخبہ حکومت قائم ہوئی ہے ۔ طارق رحمن چند ہفتے قبل ہی طویل جلا وطنی کی زندگی گذارنے کے بعد بنگلہ دیش واپس ہوئے تھے ۔ ان کی والدہ خالدہ ضیاء کا بھی گذشتہ دنوں طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا تھا ۔ جس وقت سے طارق رحمن بنگلہ دیش واپس ہوئے تھے اس وقت سے ہی کہا جا رہا تھا کہ انتخابات میں بی این پی کی کامیابی کی صورت میں طارق رحمن بنگلہ دیش کے وزیر اعظم ہونگے ۔ توقعات کے مطابق بی این پی کو انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل ہوئی تھی اور طارق رحمن بنگلہ دیش کے وزیر اعظم منتخب ہوگئے ۔ انہوں نے آج اپنے کچھ ساتھی وزراء کے ساتھ حلف بھی لے لیا ہے ۔ اس طرح بنگلہ دیش میںس عبوری انتظامیہ کا دور ختم ہوا اور عوام کے ووٹ سے منتخبہ حکومت قائم ہوگئی ہے ۔ توقع کی جا رہی ہے کہ نئی حکومت کیلئے ملک کے حالات کو بہتر بنانے پر خاص توجہ دے گی ۔ بنگلہ دیش کی جو موجودہ صورتحال ہے وہ فوری توجہ کی متقاضی ہے ۔ گذشتہ ایک سال سے زائد کے عرصہ میں ملک میں حالات ٹھیک نہیں رہے تھے اور ملک کو بے سمت کرنے کی کوششیں بھی کی گئی تھیں۔ بنگلہ دیش کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے پر خاص طور پر نئی حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے بچایاجاسکے اور غربت کے خاتمہ اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کو یقینی بنایا جاسکے ۔ جو معاشی سرگرمیاں عوامی بغاوت اور احتجاج سے قبل جاری تھیں انہیں دوبارہ بحال کرنے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے پر نئی حکومت کو سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہوگی ۔ معاشی صورتحا کی بہتری ملک کی ترقی کی ضمانت ہوسکتی ہے اور اس کے علاوہ معیشت کے استحکام کے نتیجہ میں ملک میں امن و امان کو یقینی بنایا جاسکتا ہے اور تخریبی سرگرمیوں پر قابو بھی پایا جاسکتا ہے ۔
جہاں بنگلہ دیش کی نئی حکومت کیلئے معیشت کو مستحکم کرنے کی ذمہ داری ہے اور عسکری اور تخریبی عناصر پر قابو پانے کی ضرورت ہے وہیں اسے پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات اور روابط کا بھی از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہوگی ۔ حالیہ عرصہ میں محسوس کیا گیا ہے کہ پاکستان نے بنگلہ دیش میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کی ہے ۔ کچھ عناصر تھے جنہوں نے پاکستان کے آلہ کار بن کر کام کیا تھا اور ہند مخالف بیان بازیاں اور اقدامات بھی کئے گئے تھے ۔ اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہندوستان علاقہ کا ایک بڑا اور اہم ملک ہے اور بنگلہ دیش کو ہندوستان کے ساتھ تعلقات مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہندوستان کے ساتھ مستحکم اور مضبوط و قریبی تعلقات خود بنگلہ دیش کے مفاد میں ہونگے اور اس کے نتیجہ میں بنگلہ دیش کو اپنی معیشت کو مستحکم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ ہندوستان و بنگلہ دیش کے مابین سرحدات کو بھی غیر قانونی سرگرمیوں کیلئے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔ سرحدات کی موثر حفاظت اور نگرانی کی جانی چاہئے ۔ ہندوستان کے ساتھ مل کر قریبی تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ملک ایک دوسرے سے مستفید ہوسکیں۔ ہندوستان کے ساتھ بہتر تعلقات زیادہ تر بنگلہ دیش کیلئے نفع بخش ہوسکتے ہیں اور اس کا وہاں کی نئی حکومت کو احساس کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ احساس جتنا جلد ہوسکے اتنا زیادہ بہتر ہے ۔ اس میں تاخیر سے کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے ۔
بنگلہ دیش کی نئی حکومت کو اندرون ملک انتظامیہ کو بھی موثر بنانے اقدامات کی ضرورت ہوگی ۔ اندرون ملک جو انتظامیہ ہے اس پر گذشتہ ایک سال سے زائد کے عرصہ میں کوئی خاص کنٹرول نہیں رہا ہے اور من مانی انداز میں کام کیا گیا ہے ۔ انتظامیہ پر گرفت بناتے ہوئے ملک کے داخلی حالات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ ٹھوس اقدامات کے ذریعہ انتظامیہ کو رواں دواں کیا جانا چاہئے ۔ ساری صورتحال سمجھنے اور اس کے مطابق اقدامات کرنے کیلئے حکومت کو یقینی طور پر کچھ وقت درکار ہوگا تاہم حکومت کو کسی تن آسانی سے کام کرنے کی بجائے فوری اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے مستعد اور سرگرم ہوجانے کی ضرور ت ہے ۔