ڈرتا ہوں آسمان سے بجلی نہ گرپڑے
صیّاد کی نگاہ سوئے آشیاں نہیں
بنگلہ دیش میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے پارلیمانی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ پارٹی کو تقریبا دو تہائی نشستوںپر جیت حاصل ہوگئی ہے ۔ دو دہوں کے بعد پارٹی ملک میں برسر اقتدار آئی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ 1991 کے بعد پہلی مرتبہ بنگلہ دیش میں ایک مرد وزیر اعظم کے عہدہ کا حلف لے گا ۔ بی این پی کے طارق رحمن ملک کے نئے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف لے سکتے ہیں۔ شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف عوامی بغاوت کا مرحلہ اب منطقی انجام کو پہونچا ہے اور اب وہاں ایک جمہوری حکومت قائم ہوئی ہے ۔ حالانکہ پارلیمانی انتخابات سے عوامی لیگ کو دور رکھا گیا تھا تاہم کئی جماعتوں نے ان انتخابات میں حصہ لیا تھا اور کٹر پسند جماعت اسلامی نے بھی پوری شدت کے ساتھ مقابلہ کیا تھا ۔ رائے دہندوں کیلئے کئی ترغیبات کا بھی جماعت اسلامی کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا ۔ پندرہ ہزار ٹکہ رقومات رائے دہندوں کو دینے کی بات کہی گئی تھی ۔ اس کے علاوہ کئی اقدامات کا جماعت اسلامی کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا تاہم بنگلہ دیشی عوام نے کٹر پسند پارٹی کو قبول کرنے سے گریز کیا اور دو دہوں کے بعد بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کو اقتدار سونپ دیا ہے ۔ ماضی کے تین انتخابات میں بی این پی نے انتخابات کابائیکاٹ کیا تھا اور عدالتوں سے بھی اس کے خلاف تحدیدات عائد کی جاتی رہی تھیں۔ اس کے کئی اہم قائدین کو یا تو جیل منتقل کردیا گیا تھا یا کئی قائدین کو سزائے موت بھی سنائی گئی تھی ۔ بی این پی نے کئی مسائل اور قانونی مراحل جھیلنے کے باوجود اپنی جدوجہد کو جاری رکھا تھا اور عوام کے مسائل پر حکومت کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا تھا ۔ عوامی بغاوت کے ذریعہ شیخ حسینہ کو اقتدار سے بیدخل کرنے کے بعد بنگلہ دیش میں عبوری حکومت قائم ہوئی اور اس کی نگرانی میں پارلیمانی انتخابات کروائے گئے ۔ انتخابی نتائج اب جبکہ پورے ہوگئے ہیں ایسے میں بی این پی کو تقریبا دو تہائی اکثریت کا حصول ممکن دکھائی دے رہا ہے ۔ جماعت اسلامی کو بنگلہ دیشی عوام نے اپوزیشن کی ذمہ داری سونپی ہے اور اسے یہ ذمہ داری پوری توجہ اور محنت کے ساتھ پوری کرنی چاہئے ۔
حالانکہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کو اقتدار حاصل ہوا ہے اور طارق رحمن ملک کے وزیر اعظم ہونگے تاہم پارٹی کیلئے یہ سفر آسان نہیں ہے ۔ بنگلہ دیش میں گذشتہ کچھ عرصہ میں جو داخلی ماحول رہا ہے وہ کوئی آسان نہیں رہا ہے ۔ پارٹی کیلئے شدید ترین مشکلات کا دور رہا ہے اور اس کے بے شمار قائدین کو نشانہ بنایا گیا تھا ۔ اس کے علاوہ عبوری انتظامیہ کے دور میں بھی ملک کے حالات متاثر ہوئے بغیر نہیں رہا ۔ لا قانونیت کو عروج حاصل ہوا تھا اور کٹرپسند عناصر نے ملک کے حالات کا استحصال کرنے کی کوشش کی تھی ۔ بنگلہ دیشی عوام نے تمام تر صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے جو فیصلہ کیا ہے وہ ملک کیلئے بہتر فیصلہ کہا جاسکتا ہے اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی جو حکومت قائم ہوگی اس کیلئے صورتحال زیادہ آسان نہیں رہے گی ۔ عوامی حالات کو بہتر بنانے اور ملک کی معیشت کو دوبارہ استحکام کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے اسے اقدامات کرنے چاہئیں۔ ملک میں لا قانونیت کا دور ختم کرنے پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ نظم و قانون کی صورتحال کو بہتر بناتے ہوئے عوام کو پرسکون اور پرامن ماحول فراہم کیا جانا چاہئے ۔ عوام میں احساس تحفظ پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ امن و امان کو بحال کرتے ہوئے معاشی سرگرمیوں کو رواں دواں کیا جاسکتا ہے اور معیشت کے استحکام کیلئے یہ بہت ضروری ہے ۔ حکومت کو نوجوانوں کے مسائل پر خاص طور پر توجہ دینی چاہئے اور ان کی توقعات کو پورا کرنے کیلئے منصوبہ بندی کے ساتھ کام کاج کا آغاز کرنا چاہئے ۔
اس کے علاوہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بھی بنگلہ دیش کے ساتھ بہت اہمیت کے حامل کہے جاسکتے ہیں۔ بی این پی کو خاص طور پر ہندوستان کے ساتھ تعلقات کوبہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہندوستان ایک طاقتور اور اہم پڑوسی ملک ہے اور اس کے ساتھ بہتر تعلقات خود بنگلہ دیش کے مفاد میں ہوسکتے ہیں۔ علاقہ کے دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات میں بھی نئی حکومت کو توازن برقرار رکھنا ہوگا ۔ جو سفر نئی حکومت کی حلف برداری سے شروع ہوگا وہ صبر آزما اور طویل ہوسکتا ہے اور اس کیلئے حکومت کو کمر کستے ہوئے پوری توجہ اور حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہوگی ۔