بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم خالدہ ضیاء کا انتقال

,

   

Ferty9 Clinic

ڈھاکہ:/30 ڈسمبر (ایجنسیز) بنگلہ دیش کی سیاست کی ایک عہد ساز شخصیت اور ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم خالدہ ضیاء طویل علالت کے بعد منگل کی صبح 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے سرکاری طور پر ان کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔ وہ بی این پی کی چیئر پرسن تھیں ۔خالدہ ضیائآج صبح 6 بجے فجر کی نماز کے فوراً بعد ڈھاکہ کے ایورکیئر اسپتال میں انتقال کر گئیں، جہاں وہ گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے زیر علاج تھیں۔ خالدہ ضیاء گزشتہ کئی برسوں سے مختلف سنگین بیماریوں میں مبتلا تھیں۔ معالجین کے مطابق وہ جگر کے شدید عارضے (سیروسس)، ذیابیطس اور گٹھیا کے علاوہ دل اور سینے کی بیماریوں میں بھی مبتلا رہیں۔ انہیں گردوں کے مسائل درپیش تھے اور باقاعدہ ڈائلیسس کی ضرورت پڑ رہی تھی، جبکہ حالیہ دنوں میں وہ لائف سپورٹ پر بھی تھیں۔ انہیں 23 نومبر کو دل اور پھیپھڑوں کے شدید انفیکشن کے باعث اسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور وہ گزشتہ 36 دنوں سے زیر علاج تھیں۔ ان کے علاج کے لیے ملکی و غیر ملکی ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم خدمات انجام دے رہی تھی۔15 اگست 1945 کو دناج پور میں پیدا ہونے والی خالدہ ضیاء نے بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ وہ 1991 سے 1996 اور پھر 2001 سے 2006 تک دو مرتبہ ملک کی وزیر اعظم رہیں۔ وہ بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم اور عالمِ اسلام کی دوسری خاتون وزیر اعظم تھیں، جن سے قبل یہ اعزاز پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو حاصل ہوا تھا۔خالدہ ضیاء، سابق صدر اور بی این پی کے بانی ضیاء الرحمان کی اہلیہ تھیں۔ 1959 میں ان کی شادی ضیاء الرحمان سے ہوئی، جو اس وقت فوج میں افسر تھے۔ 1971 کی جنگِ آزادی کے دوران ضیاء الرحمن ایک نمایاں فوجی کمانڈر کے طور پر سامنے آئے اور بعد ازاں ملک کے صدر بنے۔ اس عرصے میں خالدہ ضیاء صدر کی اہلیہ کی حیثیت سے سامنے آئیں، تاہم انہوں نے خود کو عملی سیاست سے الگ رکھا اور ان کا کردار زیادہ تر سماجی اور رسمی ذمہ داریوں تک محدود رہا۔1981 میں ضیاء الرحمان کے قتل کے بعد خالدہ ضیاء کی زندگی نے نیا رخ اختیار کیا۔ اسی سانحے کے بعد انہوں نے عملی سیاست میں قدم رکھا اور جلد ہی بی این پی کی قیادت سنبھالی۔ 1982 کی فوجی بغاوت کے بعد انہوں نے جمہوریت کی بحالی کی تحریک میں مرکزی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں وہ قومی سطح پر ایک مضبوط سیاسی رہنما کے طور پر ابھریں۔1991 کے عام انتخابات میں بی این پی کی کامیابی کے بعد خالدہ ضیاء پہلی مرتبہ وزیر اعظم بنیں اور 1996 تک اس منصب پر فائز رہیں۔ اس کے بعد وہ 2001 سے 2006 تک دوسری مرتبہ وزیر اعظم رہیں۔ 2006 میں اقتدار سے علیحدگی کے بعد ملک شدید سیاسی بحران کا شکار ہوا اور فوجی حمایت یافتہ عبوری حکومت قائم ہوئی۔
اسی دوران خالدہ ضیاء اور ان کے اہل خانہ کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات درج کیے گئے۔ 2018 میں انہیں دو مقدمات میں مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی گئی، تاہم صحت کی خرابی کے باعث 2019 میں انہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا اور بعد ازاں انسانی بنیادوں پر گھر میں نظر بند رکھا گیا۔ نومبر 2024 میں عدالت نے انہیں ان مقدمات سے بری کر دیا تھا۔خالدہ ضیاء کے انتقال سے چند ہی دن قبل ان کے صاحبزادہ طارق رحمان 17 برس کی خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے لندن سے بنگلہ دیش واپس آئے تھے، جبکہ ملک اہم عام انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان کے انتقال کو بنگلہ دیشی سیاست میں ایک عہد کے اختتام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔بیماری، سیاسی تنازعات اور قانونی جنگوں کے باوجود خالدہ ضیاء آخری دم تک ملکی سیاست کی ایک مرکزی، طاقتور اور اثر انداز شخصیت بنی رہیں، اور ان کا نام بنگلہ دیش کی تاریخ میں ہمیشہ نمایاں رہے گا۔