ڈھاکہ :جنوبی بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزیں کیمپوں میں ہتھیار بند مجرمانہ گروہوں کے درمیان ہوئے گینگ وار نے ہزاروں لوگوں کو بھاگنے یعنی نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اس دوران 8 لوگوں کو اپنی جانیں گنوانی پڑی ہیں۔ حکام نے گولہ باری، آگ زنی اور اغوا کے واقعات کے بعد 12 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس اور انسانیت نواز کارکنان نے اس کی اطلاع دی۔نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، جنوبی بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزیں کیمپوں میں ہتھیار بند مجرمانہ گروہوں کے درمیان ہوئے گینگ وار نے ہزاروں لوگوں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ بالادستی کی اس لڑائی کے پیش نظر ان گروپوں میں یہ جھڑپ دیکھنے کو ملی۔ جہاں یہ واقعہ پیش آیا ہے وہ دنیا کا سب سے بڑا پناہ گزیں کیمپ ہے۔ ان میں 1 لاکھ سے زیادہ لوگ رہتے ہیں۔نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق، کاکس بازار کے پاس شہر میں تعینات ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ رفیق الاسلام نے فون پر بتایا کہ وہاں کشیدگی کی صورت حال برقرار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو گروپ بالاتری کے لئے لڑائی لڑ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، مانا جا رہا ہے کہ وہ انسانی اسمگلنگ اور ڈرگس اسمگلنگ میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ یہ علاقہ ڈرگس کی اسمگلنگ کے لئے جانا جاتا ہے جو میانمار سے متصل ہے۔خیال رہے کہ میانمار کی سرحد سے متصل اس علاقہ کے پورے پہاڑی خطے پر بانس اور ٹین سے عارضی پناہ گاہیں بنائی گئی ہیں۔ تقریبا چھ ہزار ایکڑ اراضی پر 30 کلسٹروں پر مشتمل پناہ گزین کیمپ میں ان کا گزر بسر ہورہا ہے۔ روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپ کوکس بازار سٹی سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر پہاڑی جنگلی اراضی پر واقع ہے، جو کبھی ہاتھیوں اور جنگلی جانوروں کا بسیرا تھا۔ پورا کیمپ کا علاقہ نیلے اور ہرے ٹین کی چھت ، بانس اور ترپال کی شیٹ سے گھرا ہوا ہے، اور کیمپ کے اندر جانے کے لئے چاروں طرف کچی سڑکیں ہیں۔