محبت میں کبھی ایسی بھی حالت پائی جاتی ہے
طبعیت اور گھبراتی ہے جب بہلائی جاتی ہے
کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی ان دنوں بھارت جوڑو یاترا پر ہیں جو ہندوستان بھر کا احاطہ کرنے والی ہے ۔ راہول گاندھی نے کنیا کماری سے اس یاترا کا آغاز کیا تھا اور یہ مختلف ریاستوں سے ہوتی ہوئی کشمیر تک پہونچے گی ۔ راہول گاندھی اس یاترا میں کئی ریاستوں سے ہوتے ہوئے گذریں گے اور ان کا دعوی ہے کہ وہ ہندوستان میں پائے جانے والے نفرت کے ماحول کے خلاف یہ یاترا کر رہے ہیں اور سماج کو توڑنے کی جو کوششیں ہو رہی ہیں اس کے خلاف انہوں نے بھارت جوڑو یاترا شروع کی ہے ۔ کچھ گوشوں کی جانب سے اس یاترا کی مخالفت کی جا رہی ہے تو کچھ گوشے اس کی حمایت بھی کر رہے ہیں۔ سیول سوسائیٹی کے کچھ گروپس اس یاترا کا حصہ بھی بننے کو تیار ہیں۔ راہول گاندھی بی جے پی اور آر ایس ایس کا پسندیدہ نشانہ رہے ہیں۔ بھارت جوڑو یاترا کے موقع پر بھی بی جے پی اور راہول گاندھی کو تنقیدوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور بات ان کے ایجنڈہ کی نہیں کی جا رہی ہے بلکہ ان کے کپڑوں کی جانب موڑ دی گئی ہے ۔ وزیر داخلہ امیت شاہ کا کہنا تھا کہ راہول گاندھی 41 ہزار روپئے کی ٹی شرٹ پہن کر بھارت جوڑو یاترا پر نکل پڑے ہیں۔ اس طرح انہوں نے راہول گاندھی کے مہنگے لباس پر طنز کیا تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ خود کو فقیر آدمی قرار دینے والے وزیر اعظم نریندرمودی اس معاملے میں سب سے آگے ہیں۔ انہوں نے ایک موقع پر 10 لاکھ روپئے کا سوٹ زیب تن کیا تھا ۔ ان کی عینک کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ وہ بھی لاکھوں روپئے کی ہے ۔ ان کا جو قلم ہے وہ بھی لاکھوں روپئے مالیتی ہے ۔ یہ ساری چیزیں ہندوستان کی نہیں بلکہ بیرونی ممالک کی کمپنیوں نے تیار کی ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم جس گاڑی کو استعمال کرتے ہیں وہ بھی کروڑوں روپئے مالیتی ہے ۔ کانگریس نے جوابی طنز کرتے ہوئے خود وزیر داخلہ امیت شاہ کے مفلرس کا حوالہ دیا جو تقریبا ایک لاکھ روپئے تک کی مالیت کے بتائے گئے ہیں۔ بی جے پی نے اس طرح راہول گاندھی کی یاترا کے تعلق سے جو ماحول بنانے کی کوشش کی ہے وہ در اصل بنیادی اور حقیقی مسائل سے فرار ہے ۔عوام کی توجہ یاترا کے بنیادی ایجنڈہ سے بھٹکانے کی کوشش منظم انداز میں کی گئی ہے ۔
اصل سوال اس یاترا کے تعلق سے یہ نہیں ہے کہ راہول گاندھی یا اس یاترا میں شریک ہونے والے دوسرے قائدین کتنی مالیت کا لباس ذیب تن کرتے ہیں۔ کتنی مالیت کے جوتے استعمال کرتے ہیں یا پھر وہ کیا کھاتے اور کیا پہنتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ راہول گاندھی نے یہ یاترا نکالی کیوں ہے اور اس کے بنیادی مقاصد کیا ہے ۔ اس کے ذریعہ سماج میں کیا صورتحال پیدا ہوسکتی ہے ۔ اس کے سماج پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ جس طرح سے سارے ملک کا ماحول پراگندہ کردیا گیا ہے اور ہر مسئلہ کو مذہبی تعصب اور تنگ نظری کی سوچ کا شکار کردیا گیا ہے اس میں ملک کا ماحول نفرت زدہ ہوگیا ہے ۔ لوگ ایک دوسرے سے دوری بنانے میں عافیت محسوس کر رہے ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے تعلقات کو استوار کرنے کی بجائے تعلقات کو ختم کرنے کے در پہ ہوگئے ہیں۔ لباس اور عبادات ہوں یا پھر غذائی عادات ہوں یا رہن سہن کا طریقہ کار ہو سبھی کو فرقہ وارانہ منافرت کا شکار کردیا گیا ہے ۔ عوام کے ذہنوں میں مذہبی جنون کو ہوا دیتے ہوئے سیاسی مقاصد کی تکمیل کی جا رہی ہے ۔ ایسے میں اگر ملک میں امن و آشتی کا پیام عام کرنے کیلئے سماج کے مختلف طبقات کے مابین پائی جانے والی دوریوں کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے ۔ اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے کہ یاترا کس نے نکالی ہے اور یاترا نکالنے والوں کا کس جماعت سے تعلق ہے ۔ یاترا کے مقاصد اور ایجنڈہ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اس کے اثرات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو دوبارہ فروغ مل سکے ۔
بی جے پی کا جہاں تک سوال ہے وہ ہمیشہ ہی عوام کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹاتی رہی ہے ۔ خود اس کے اپنے انتخابی وعدوں کا کہیں کوئی تذکرہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتی ۔ اس سوال کا جواب نہیں دیا جاتا کہ مہنگائی ختم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے اس میں صد فیصد سے زیادہ اضافہ کس طرح ہوگیا ۔ یہ جواب نہیں دیا جاتا کہ سالانہ دو کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کہاں گیا ۔ کیوں اس کا کوئی تذکرہ نہیں کیا جاتا ۔ یہ نہیں کہا جاتا کہ بیرونی ممالک سے کالا دھن لانے کا وعدہ کیوں وفا نہیں ہوسکا ۔ اس کی بجائے حلال ‘ حجاب ‘ تین طلاق ‘ کثرت ازدواج اور دیگر مسائل کو ہوا دی جا رہی ہے ۔ بی جے پی کو چاہئے کہ وہ اہم بنیادی مسائل پر سیاست کرنے کی بجائے ان پر مباحث کیلئے تیار رہے اور تعمیری تجاویز کو فراخدلی سے قبول کرے ۔
ملکہ ایلزبتھ کا انتقال ‘ ایک دور کا خاتمہ
برطانیہ کی ملکہ ایلزبتھ دوم کا جمعرات کی رات دیر گئے انتقال ہوگیا ۔ وہ 96 برس کی تھیں۔ ملکہ برطانیہ دنیا بھر میں عزت و قدر کی نظر سے دیکھی جاتی تھیں۔ ان کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ وہ 70 سال تک تاج شاہی کو سنبھالتی رہیں۔ وہ برطانیہ میں سب سے زیادہ حکمرانی کرنے والی ملکہ رہیں۔ انہوں نے ایک ایسا طویل سفر انتہائی متانت سے طئے کیاجو نامساعد حالات کا بھی شکار رہا ۔ حالیہ عرصہ میں ان کی صحت بگڑتی چلی گئی تھی ۔ خاص طور پر ان کے شوہر پرنس فلپ کے انتقال کے بعد سے خود ملکہ کی صحت بھی متاثر ہوتی چلی گئی تھی اور وہ کئی عوامی پروگرامس میں شرکت سے دوری اختیار کر رہی تھیں۔ ملکہ برطانیہ نے سات دہوں سے زیادہ عرصہ تک تاج شاہی کی ذمہ داری سنبھالی ۔ انہوں نے اتنے طویل عرصہ میں اپنی ذمہ داریوں سے کبھی پہلوتہی نہیں کی تھی ۔ مصروفیات پر انہوں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا تھا اور اپنے فرائض وہ انتہائی خوشدلی سے انجام دیا کرتی تھیں۔ عصر حاضر میں اتنے طویل عرصہ تک تاج شاہی رکھنے کا اعزاز صرف انہیں ہی حاصل رہا تھا ۔ ملکہ کے طویل دور حکومت میں کچھ تنازعات بھی پیدا ہوئے تھے اور خود ملکہ کے رول پر بھی سوال کئے گئے تھے تاہم انہوں نے ہر طرح کی صورتحال کا انتہائی صلاحیت اور برد باری کے ساتھ سدباب کیا تھا ۔ ساری دنیا میں وہ انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں۔ ملکہ ایلزبتھ دوم کا انتقال ایک دور کا خاتمہ ہے ۔ اس کے ساتھ ہی کئی اہم روایات بھی کہیں پس منظر میں چلی جائیں گی ۔ کہا جاسکتا ہے کہ دنیا ایک مدبر اور فرض شناس و ذمہ دار ملکہ سے محروم ہوگئی ہے ۔
