بوکھلاہٹ یا منظم پروپگنڈہ ؟

   

اپنے ستم کو امن کا دیتے ہو نام تم
ہم اُف کریں تو کہتے ہو اعلان جنگ تھا
جس وقت سے قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے ملک بھر میں حکومت کے خلاف جارحانہ تیور کے ساتھ مہم شروع کررکھی ہے اور ووٹ چوری کے مسئلہ پر احتجاج کی قیادت کر رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ اس وقت سے ہی بی جے پی بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے ۔ بی جے پی کو یہ اندازہ شائد نہیں رہا ہوگا کہ راہول گاندھی کی آواز پر ملک بھر میں اس طرح کا ماحول پیدا ہوگا اور لوگ احتجاج کیلئے امڈ پڑیں گے ۔ سی جے پی کے قائدین ہوں یا پھر آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کے نمائندے ہوں ‘ دیگر طلباء کارکن ہوں یا دوسرے جہد کار ہوں سبھی ووٹ چوری اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف راہول گاندھی کی قیادت کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ کوشش کی جا رہی تھی کہ سی جے پی اور راہول گاندھی کے درمیان خلیج میں اضافہ کیا جائے تاہم راہول گاندھی نے سی جے پی قائدین کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے یہ واضح کردیا ہے کہ احتجاج بھلے ہی الگ الگ ہو رہے ہوں سب کا مقصد ایک ہی ہے اور سبھی ایک ہی مقصد کے تحت احتجاج کر رہے ہیں ایسے میں کسی کو کسی سے الگ قرار دینے کی کوشش نہیں کی جانی چاہئے ۔ ملک بھر میں پائے جانے والے عوامی موڈ اور سڑکوں پر امڈتے ہوئے ہجوم کو دیکھتے ہوئے بی جے پی کی جانب سے جوابی تنقیدوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے اور خاص طور پر کانگریس اور راہول گاندھی کو سیاسی طور پر نشانہ بنانے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ ساتھ ہی طلباء قائدین اور سی جے پی کے ورکرس کو گرفتار کرتے ہوئے انہیں پابند مچلکہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ کسی بھی قیمت پر احتجاج کو کچلنے اور دبانے کے منصوبے پر عمل کیا جا رہا ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی یا تو بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی ہے یا پھر وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سارے احتجاج کو ختم کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہوئی ہے ۔ اب جبکہ دسہرہ تقاریب کے پیش نظر عوامی احتجاج میں وقفہ آگیا ہے ایسے میں بی جے پی نت نئے انداز سے پلٹ وار کرنے اور مخالفین کو نشانہ بنانے میں مصروف ہوگئی ہے ۔
جہاں سی جے پی سے حکومت خوفزدہ ہے وہیں وہ طلباء تنظیموں سے بھی گھبراہٹ کا شکار ہوگئی ہے ۔ سیول سوسائیٹی کی تنظیموں نے بھی اسے پریشان کر رکھا ہے تو سب سے زیادہ مسئلہ اسے راہول گاندھی سے درپیش ہونے لگا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ راہول گاندھی کو نشانہ بنانے پر تلی ہوئی ہے ۔ اب ایک غیر مصدقہ ویڈیو پیش کرتے ہوئے دعوی کیا گیا کہ نوراتری کے موقع پر راہول گاندھی ہندوستان میں رہنے کی بجائے ویتنام کے دورہ پر روانہ ہوگئے ہیں۔ حالانکہ اس ویڈیو کی کوئی توثیق نہیں ہوئی ہے تاہم بی جے پی اس تعلق سے پروپگنڈہ کرنے میں مصروف ہے ۔ ساتھ ہی ایک اور ویڈیو اب گشت کرنے لگا ہے کہ راہول گاندھی دہلی میں دسہرہ تقاریب میں دکھائی دے رہے ہیں۔ راہول گاندھی بیرونی دورہ پر گئے ہوں یا نہیں یہ ان کا اپنا مسئلہ ہے ۔ آزاد ہندوستانی شہری ہونے کے ناطے انہیں بیرون ملک سفر کی پوری آزادی ہے ۔ تاہم اس تعلق سے مسئلہ پیدا کرنے کی کوشش بی جے پی کی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتی ہے ۔ تاہم اس کا یہ بھی پہلو ہے کہ اس طرح اگر واقعی بیرونی دورہ کیا جا رہا ہے اور بی جے پی کی جانب سے اس کی تفصیلات منظر عام پر لائی جا رہی ہوں تو ملک کے قائد اپوزیشن کی سکیوریٹی کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ سیاسی مخالفت اپنی جگہ تاہم کسی کی سکیوریٹی کے تعلق سے اندیشے پیدا ہونے کا موقع نہیں فراہم کیا جانا چاہئے چاہے وہ راہول گاندھی ہوں یا کوئی اور ہوں ۔
بیرونی دوروں پر تنقیدوں کے علاوہ کئی اور طرح سے بھی بی جے پی اپنے مخالفین کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے ۔دسہرہ تقاریب کا بھی اسی مقصد کیلئے استحصال کیا گیا اور ملک میں احتجاج کی حوصلہ شکنی کرنے والے بیانات دئے گئے ۔ اس سے یاتو بی جے پی کی بوکھلاہٹ ثابت ہوتی ہے یا پھر اس کے کسی منظم منصوبے کا اشارہ ملتا ہے ۔ بی جے پی کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ملک کے عوام میں اس کے تعلق سے شدید ناراضگی پیدا ہوگئی ہے اور اسے اس طرح کی حکمت عملی سے قابو کرنا فی الحال ممکن نظر نہیں آتا ۔