بیرونی ریاستوں سے خواتین و نوجوانوں کے جتھے لانے پر توجہ ۔ بھاری معاوضہ کیلئے بھی اصرار
حیدرآباد۔12۔نومبر(سیاست نیوز) شہر میں بوگس رائے دہی کروانے والے گروہ اب مافیا کی طرح کام کرنے لگے ہیں اور منظم انداز میں وہ خواتین اور نوجوانوں کے گروپس کے ساتھ امیدواروں سے معاملت میں مصروف ہیں۔ دونوں شہروں کے کئی علاقوں بالخصوص پرانے شہر میں یہ گروہ مصروف ہیں اور امیدوار جو انتخابی میدان میں ہیں وہ ان سے رابطہ کرکے وسیع تر بوگس رائے دہی کی تیاریوں پر مشاورت کرنے لگے ہیں۔ بوگس رائے دہی کے لئے مختلف علاقوں سے خواتین کو لانے والے ایک فرد نے بتایا کہ اسمبلی انتخابات میں اس مرتبہ فی خاتون 5 ہزار روپئے تک ادا کرنے کی بات کی جا رہی ہے جبکہ امیدوار راست بات کرنے سے گریز کرکے حامیوں سے بات کروارہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ جن امیدواروں کے پاس فرضی ووٹرس کی تفصیلات موجود ہیں وہ امیدوار ہی اس سے استفادہ کرسکتے ہیں اسی لئے عموما یہ سہولت موجودہ ارکان اسمبلی کو ہی ملتی ہے کیونکہ ووٹر لسٹ کی تیاری میں وہ اپنے انداز میں ووٹر کی تعداد میں اضافہ کرواتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جو فرضی نام ووٹر لسٹ میں شامل کروائے گئے ان کے استعمال کیلئے خواتین کو قطار در قطار ٹھہرایا جاتا رہا ہے لیکن اس بار مقامی سے زیادہ پڑوسی ریاستوں کی خواتین کے ذریعہ ووٹ کے استعمال کی منصوبہ بندی کی جار ہی ہے کیونکہ مقامی خواتین صورتحال کو دیکھتے ہوئے فی ووٹ 5000 روپئے کا مطالبہ کر رہی ہیں جبکہ امیدوار فی ووٹ کی بجائے دن بھر مختلف مقامات پر ووٹنگ کیلئے 5000 ہزار روپئے ادا کرنے کی بات کی جا رہی ہے ۔ پڑوسی ریاستوں سے جن خواتین اور نوجوانوں کو لایا جاتا تھا اس بار ان کیلئے مشکل صورتحال کا قومی امکان ہے کیونکہ پولیس اور انتخابی عملہ کی جانب سے نقائص سے پاک اور شفاف انتخابات کی بات کی جا رہی ہے اور اسے یقینی بنانے دوسروں کے ووٹ ڈالنے والوں کو گرفتار کرنے کا انتباہ دیا جا رہاہے ۔ ذرائع کے مطابق پڑوسی ریاستوں سے رائے دہی کیلئے خواتین اور نوجوانوں کے گروپس جو لوگ شہر لاتے ہیں وہ کافی محتاط ہیں کیونکہ انہیں گروپس کی نشاندہی پر ان کی حفاظت کے متعلق خدشات پیدا ہونے لگے ہیں اسی لئے اب سیاسی قائدین مقامی افراد سے رابطہ کرکے انہیں خواتین اور نوجوانوں کو تیار رکھنے کا مشورہ دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جو 50خواتین کا گروپ تیار کریگا اسے 5لاکھ روپئے تک ادا کئے جائیں گے جبکہ ان گروپس کے ذمہ داران کا کہناہے کہ اس بار نازک صوررتحال ہے اسلئے وہ معمولی رقم کیلئے خواتین کی گرفتاریوں کا جوکھم نہیں اٹھاسکتے ۔ انتخابی عملہ کے شناخت کے بغیر ووٹ کا موقع دینے پر کاروائی کے علاوہ پولیس اختیارات کے متعلق الیکشن کمیشن سے شعوربیداری مہم کا امکان ہے تاکہ بوگس ووٹنگ پر قابو پایا جاسکے۔