بپن راوت نے سائی تیجا کو فوج سے علحدگی سے روکا تھا

   

بیٹے نے جان دے کر وعدہ نبھایا، والد موہن کا تاثر
حیدرآباد۔10۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) جنرل بپن راوت نے اپنے حفاظتی دستے میں شامل لانس لائک سائی تیجا کو جو مشورہ دیا تھا ، اس پر عمل کرتے ہوئے سائی تیجا نے اپنی جان قربان کردی۔ سائی تیجا کے والد موہن نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ افراد خاندان سائی تیجا کو فوج کی ملازمت ترک کرنے کیلئے اصرار کر رہے تھے۔ یہ بات جب سائی تیجا نے جنرل بپن راوت سے کہی تو انہوں نے کہا کہ ’’میرے عہدہ پر برقرار رہنے تک آپ میرے ساتھ رہیں‘‘۔ سائی تیجا نے بپن راوت کے مشورہ کے قبول کرتے ہوئے ان کے حفاظتی دستے میں خود کو شامل رکھا ۔ آخرکار بپن راوت کے ساتھ ہی حادثہ میں ان کی موت واقع ہوگئی۔ سائی تیجا کے والد موہن نے کہا کہ میرے بیٹے نے بپن راوت سے کیا ہوا وعدہ پورا کردیا۔ چتور ضلع کے آبائی گاؤں میں گزشتہ دو دنوں سے غم کا ماحول ہے۔ ہیلی کاپٹر حادثہ میں سائی تیجا کی موت کی اطلاع اگرچہ افراد خاندان کو دی گئی لیکن سائی تیجا کے دو کمسن بچے اپنے والد کی موت سے لاعلم ہیں۔ وہ معمول کی طرح گھر ؤ باہر کھیل کود میں مصروف ہیں۔ گھر پر عوام کا تانتا بندھا ہوا ہے جن میں سیاسی قائدین بھی شامل ہیں جو سائی تیجا کے افراد خاندان کو پرسہ دے رہے ہیں۔ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے سائی تیجا کی دختر اور فرزند یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اچانک ان کے گھر پر لوگوں کی آمد کی وجہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ایک سال سے سائی تیجا کو جنرل بپن راوت نے شخصی حفاظتی دستے میں شامل رکھا ہے۔ والد موہن نے کہا کہ ہم تو بیٹے کو فوج سے علحدہ کرنا چاہتے تھے لیکن اس نے بپن راوت سے کیاگیا وعدہ اپنی جان دے کر پورا کیا ہے۔ر