اورنگ آباد : اورنگ آباد کے ضلع کلکٹر دلیپ سوامی نے کہا کہ اکثر والدین اپنے بچوں کے مطالعے میں عدم دلچسپی کی شکایت کرتے ہیں، لیکن اگر وہ خود کتابیں پڑھنے کی عادت اپنائیں تو بچے بھی ان کے نقشِ قدم پر چلیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مطالعے کی روایت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہی مستقبل کی نسل میں فکری گہرائی پیدا کرے گا۔ وہ یہاں گرانتھوتسو 2024 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ، جو محکمہ ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن کے تحت ڈسٹرکٹ لائبریری آفیسر اور ڈائریکٹوریٹ آف لائبریریز کے اشتراک سے سمتا درشن لائبریری آڈیٹوریم میں منعقد کی گئی۔ تقریب کا افتتاح کلکٹر دلیپ سوامی نے کیا، جبکہ صدارت بابا صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی کے مراٹھی شعبے کے سربراہ ڈاکٹر داسو ویدیا نے کی۔ اس موقع پر ہیومن ڈیولپمنٹ کمشنریٹ کے ڈپٹی کمشنر ملند نارنگے ، سینئر ادبی شخصیت بابا بھنڈ، ڈی ایس کیٹ، کنڈلک اٹکرے سمیت دیگر معززین اور اسکولی طلبہ بھی موجود تھے ۔ تقریب میں طلبہ نے مختلف ثقافتی ملبوسات پہن کر بھرپور شرکت کی، جس سے ایک رنگا رنگ منظر دیکھنے کو ملا۔ کلکٹر دلیپ سوامی نے اس موقع پر لائبریری ہالوں کا افتتاح کیا، جہاں کتابوں کی نمائش اور فروخت کا اہتمام کیا گیا تھا۔ کتابوں کے شوقین افراد بڑی تعداد میں یہاں پہنچے اور مختلف موضوعات پر لکھی گئی کتابوں کا مطالعہ اور خریداری کی۔ مرکزی تقریب کا آغاز روایتی چراغاں سے کیا گیا، جو علم و روشنی کی علامت کے طور پر منعقد کیا گیا۔
اپنے خطاب میں کلکٹر سوامی نے کہا کہ ہم سنتوں کی سرزمین کے وارث ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ان کے تحریری ورثے سے خود کو دور کر رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فکری وسعت اور ذہنی نشوونما کے لیے مطالعہ نہایت ضروری ہے ۔ خواہ وہ نظمیں ہوں، کہانیاں، ناول، فلسفہ، یا کسی اور صنف میں لکھی گئی تحریریں، سبھی انسان کی ذہنی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی گھروں میں کتابیں محض شوکیس کی زینت بنی رہتی ہیں، حالانکہ ان کا اصل مقصد پڑھنا اور سیکھنا ہے ۔ انہوں نے تجویز دی کہ مطالعے کی ثقافت کو عام کرنے کے لیے چھوٹے پیمانے پر کتاب میلوں کا انعقاد کیا جائے اور والدین بچوں کے ساتھ خود بھی کتابیں پڑھنے کا رجحان اپنائیں تاکہ یہ روایت مضبوط ہو سکے ۔