آتے آتے آئے گا اُن کو خیال
جاتے جاتے بے خیالی جائے گی
آسٹریلیا نے ایک اہم اور بہترین فیصلہ کرتے ہوئے 16 سال سے کم عمر کے بچوں کیلئے سوشیل میڈیا کے استعمال پر امتناع عائد کردیا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ کنیڈا بھی اسی طرح کے کسی فیصلے پر غور کر رہا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ بچوں کی ذہنی صحت کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ سوشیل میڈیا کے استعمال سے بچوں کی صحت متاثر ہو رہی ہے ۔ ان کی ذہنی اور جسمانی نشو و نما پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور بچے مختلف ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان کے رکھ رکھاؤ میں ابتری پیدا ہورہی ہے اور وہ سماج کیلئے ایک اثاثہ بننے کی بجائے مسئلہ بننے لگے ہیں۔ بچے کسی بھی سماج کا مستقبل ہو تے ہیں۔ ان کی ذہنی اور جسمانی نشو و نما اور صحت انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے ۔ سوشیل میڈیا کے استعمال سے بچوں کا ذہن پروان چڑھنے کی بجائے مختلف لعنتوں کا شکار ہونے لگا ہے ۔ ان کی سوچ کا دائرہ وسیع ہونے کی بجائے تنگ ہونے لگا ہے اور بچے بیماریوں کا بھی شکار ہو رہے ہیں۔ سماجی اور خاندانی رکھ رکھاؤ سے دور ہوتے ہوئے ایک فرضی دنیا کا حصہ بن رہے ہیں اور وہ سماج کیلئے بوجھ بن رہے ہیں۔ مختلف منفی افکار او خیالات ان پر حاوی ہونے لگی ہیں۔ بچے اسی وجہ سے منفی سوچوں کا شکا رہو کر جرائم کا ارتکاب بھی کرنے لگے ہیں۔ ان میں نشہ کی عادت فروغ پانے لگی ہے او وہ ایک محدود دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ کر اسی کا حصہ بننے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ آسٹریلیا میں جو فیصلہ کیا گیا ہے وہ بہترین ہے اوردوسروں کیلئے بھی ایک مثال کہا جاسکتا ہے ۔ کنیڈا میں بھی اسی طرح کے امکان پر غور کیا جا رہا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے اپنے ملک ہندوستان میں بھی اسی طرح کے امکانات کا جائزہ لیا جائے ۔ سوشیل میڈیا جہاں اچھا ذریعہ ہوسکتا ہے وہاں اس کو منفی افکار کا شکار کردیا گیا ہے ۔ بچوں کیلئے جہاں تعلیم ضروری ہے وہیں جسمانی نقل و حرکت کی بھی اہمیت ہوتی ہے او راس سے ان کی نشو و نما پر اثرات ہوتے ہیں۔ بچوں کا ذہن وسیع ہونے سے قبل ہی اس کے گرد دائرہ تنگ کیا جا رہا ہے اورر اس کے مستقبل پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب ہونے کے اندیشے رہتے ہیں۔
جہاں تک ہمارے اپنے ملک ہندوستان کا سوال ہے تو اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ لعنت ہمارے ملک میں بہت زیادہ سرائیت کر گئی ہے ۔ بچے سماج سے کٹنے لگے ہیں او روہ اپنے آس پاس کے ماحول سے خود کو الگ تھلگ کرنے لگے ہیں۔ یہیں سے ان کے ذہنی بگاڑ کا آغاز ہوتا ہے ۔ انفارمیشن ٹکنالوجی نے جہاں دنیا کو بے شمار سہولتوں سے آراستہ کردیا ہے وہیں اس کے منفی پہلو بھی بہت زیادہ ہوگئے ہیں۔ ویسے بھی سوشیل میڈیا کا استعمال انتہائی ذمہ دارانہ کام ہے ۔ اس کے ذریعہ سے سماج میں بہتری لائی جاسکتی ہے ۔ سدھار پیدا کیا جاسکتا ہے اور عوام میں شعور بیدار کیا جاسکتا ہے لیکن اسی سوشیل میڈیا کے ذریعہ کم عمر ذہن بھٹکنے لگے ہیں۔ وہ مثبت سے زیادہ منفی سوچوں کا شکار ہونے لگے ہیں۔ جرائم کی سمت رجحان ہونے لگا ہے ۔ سوشیل میڈیا پر کسی طرح کی کوئی روک ٹوک بھی نہیں ہے ۔ ایسے میں حکومتوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس کے استعمال کے تعلق سے کچھ پابندیاں ضرور عائد کرے ۔ خاص طور پر عمر کا تعین کرنے سے گریز نہیں کیا جان چاہئے تاکہ بچوں کو اس کی لعنتوں سے بچایا جاسکے اور ان کے مستقبل کو متاثر ہونے سے بچایا جاسکے ۔ جو بچے سوشیل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں وہ خود اپنے گھر اور خاندان سے دور ہونے لگے ہیں جبکہ ہمارا سماج خاندانی رشتوں کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے ۔ رشتوں کی اہمیت اور ان کاتقدس بھی بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے جو سوشیل میڈیا کے بہت زیادہ استعمال سے پامال ہو رہا ہے ۔
آسٹریلیا جیسے کھلے معاشرہ میں بھی اگر بچوں کے سوشیل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے تو ہندوستان جیسے روایتی او اخلاق و اقدار والے معاشرہ کو بھی اس تعلق سے غور کرنے کی ضروت ہے ۔ یہ پابندیاں خود بچوں کیلئے بہتر ہوسکتی ہیں اور ان کے مستقبل کو متاثر ہونے سے بچایا جاسکتا ہے ۔ سماج کے ذمہ دار گوشوں اور حلقوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس تعلق سے شعور بیدر کریں ۔ حکومتوں سے اور دوسرے ذمہ دار حلقوں سے لگاتار نمائندگی کریں اور سوشیل میڈیا کے مثبت اورمنفی اثرات کو اجاگرکریں۔ ہماری حکومت کو بھی اس تعلق سے تمام امکانات کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے ۔
