بلاشبہ ماں کے درجے پر فائز ہونا قابلِ فخر ہے اور یہ فخر اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے، جب بچے کی اچھی پرورش، دیکھ بھال اور تربیت بھی کی جائے۔ایسا نہیں کہ بچے کی پرورش اور دیکھ بھال کا آغاز پیدائش کے بعد ہوتا ہے ، بلکہ یہ عمل حمل ٹھہرتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ذیل میں ہم پہلی بار ماں بننے والی خواتین کیلئے اس حوالے سے چیدہ چیدہ معلومات درج کر رہے ہیں۔ حمل ٹھہرنے کا مطلب ہے کہ اب شکمِ مادر میں ایک نئی زندگی نشو و نما کے مختلف مراحل طے کرے گی، لہٰذا یہ ضروری ہے کہ مناسب غذائی اجزاء استعمال کیے جائیں، جن میں فولک ایسڈ اور آیوڈین شامل ہوں۔متوازن غذا کے استعمال سے قوتِ مدافعت مضبوط ہوتی ہے، نتیجتاً بیماریاں لاحق ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔اپنی گائناکالوجسٹ کے مشورے سے ورزش بھی کی جائے۔ اس سے جہاں زچگی کا عمل سہل ہوتا ہے، وہیں ماں اور بچے کی صحت پر مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ حاملہ اپنی نیند کا بھی خاص خیال رکھے، کیونکہ نیند کی کمی بچے کی دماغی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔فاسٹ فوڈز کم سے کم استعمال کیے جائیں۔پھلوں کے استعمال سے شکمِ مادر میں پلنے والے بچے کا آئی کیو لیول دیگر بچوں کی نسبت بلند ہوتا ہے، اس لئے اپنے غذائی شیڈول میں موسمی پھلوں کا استعمال بڑھا دیں۔ اگر خدا نخواستہ دورانِ حمل ذیابیطس لاحق ہو جائے، تو پھر ایسے پھلوں کے استعمال سے اجتناب برتیں، جو خون میں شوگر کی مقدار بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔پُرسکون ماحول میں رہا جائے، جلد سوئیں، جلد بیدار ہوں۔نماز پڑھیں، قرآن پاک اور دیگر اسلامی کتب کا مطالعہ ضرور کریں۔ان عادات سے بچے پر مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پیدائش کے بعد بچے کا پہلا حق ماں کا دودھ ہے۔بچے کو اپنا دودھ لازماً پلائیں، تاکہ اس کا امیون سسٹم مضبوط اور نشو و نما بہتر انداز سے ہو سکے ۔ نومولود کو پیدائش کے پہلے پندرہ دن تک صبح کی ہلکی نرم دھوپ میں لٹائیں، تاکہ پیدائشی یرقان کا اندیشہ نہ رہے۔اگر ہو بھی جائے تو جلد صحت یابی کے امکانات بڑھ جائیں۔ننھے بچوں کے معدے کا حجم ابتداء میں چھوٹا ہوتا ہے، اس لئے ماں کو بار بار دودھ پلانا پڑتا ہے۔ اس سلسلے دو ضروری احتیاطیں اختیار کریں ۔ اول، بچے کو کبھی بھی لیٹ کر دودھ نہ پلایا جائے، خاص طور پر رات کے وقت جب آپ خود نیند کے اثر میں ہوں۔دوم، دودھ پلانے کے بعد بچے کو کاندھے سے لگا کر ڈکار لازمی دلوائیں، تاکہ معدے سے گیس کا اخراج ہو سکے۔بچے ابتداء میں دودھ پینے کے بعد الٹی کر دیتے ہیں۔یہ ایک قدرتی عمل ہے۔بچے کو گلے سے لگا کر ڈکار دلانے کے عمل سے اس میں خاصی کمی آ جاتی ہے۔ پہلے چھے ماہ سے ایک سال تک بچے دن میں تین سے چھے بار اجابت اور 8 تا 10 مرتبہ پیشاب کرتے ہیں۔یہ کیفیت طبعی اور قدرتی ہے، اسے بیماری نہ سمجھیں۔بچے کو قبض ہونے کی صورت میں گھٹی پلائیں۔ریاح کی شکایت زیادہ ہو، تو گرائپ واٹر پلایا جا سکتا ہے۔ چار ماہ کی عمر سے ہلکی ٹھوس غذائیں مثلاً نرم اْبلا انڈا، پسے ہوئے چاول کی کھیر، آش جَو (جَو کا اُبلا ہوا پانی) اور پھل کچل کر کھلانا شروع کر دیں۔ بتدریج اس میں گوشت کا شوربا، قیمہ، آلو، دلیا اور شوربے میں نرم کی ہوئی تازہ روٹی کا اضافہ کر دیں۔اس طرح بچہ آپ کے ساتھ دسترخوان پر کھانے میں شریک ہونا سیکھ جاتا ہے۔یہ بات گرہ سے باندھ لیں کہ فاسٹ فوڈز کا بے تحاشا استعمال، زائد مقدار میں کھانا، بے وقت کی بھوک اور بسیار خوری جیسی عادات بچوں کو بیمار اور ان کی بڑھنے کی صلاحیت متاثر کرتی ہیں۔ بچے کی اخلاقی تربیت والدین اور اہلِ خانہ کی مشترکہ ذمے داری ہے۔بچے اپنے ارد گرد کے ماحول اور دیگر افراد کے طریقہ زندگی کی نقل کرتے ہیں لہٰذا والدین اور اہلِ خانہ خود بھی اپنے بڑوں کا احترام کریں، چھوٹوں سے شفقت سے پیش آئیں، ایک دوسرے سے مہذب انداز میں گفتگو کریں، گھر کا خوشگوار ماحول رکھیں، احسن عادات اختیار کریں، عبادات پر توجہ دیں ، معیاری الفاظ کا استعمال کریں، لوگوں کی اچھی باتوں، عادات کا بار بار تذکرہ کریں کہ یہ خصوصیات بچوں کی کردار سازی میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ یاد رکھیے، فضول گوئی، جھوٹ، غیبت، بے ادب ماحول منفی شخصیت کا سبب بنتے ہیں۔ مدرسے یا اسکول جانے سے قبل کا عرصہ والدین کیلئے بچے کو اپنی اقدار، اخلاقیات ، عادات اور مجلسی آداب سکھانے کا بہترین موقع ہے۔بہتر تو یہی ہے کہ بچے کا 4 سال یا ساڑھے چار سال کی عمر کے بعد مدرسے یا اسکول میں داخلہ کروایا جائے، تاکہ اس عرصے میں گھر ہی میں بچے کو بنیادی باتیں سکھائی جا سکیں۔ مثلاً دینی معلومات اور عبادات، زبان، صحت مند غذائی عادات اور اپنا جسمانی دفاع وغیرہ۔درس گاہوں میں جہاں تعلیم اور معاشرت سکھائے جاتے ہیں، وہیں مختلف مزاج کے اساتذہ اور طلبہ سے بھی واسطہ پڑتا ہے۔اس دور میں بچے کی سوچ اور رویے پر نگرانی رکھنا ازحد ضروری ہے۔غیر ضروری دباؤ، تشدد اور لڑائی جھگڑے میں کمزور پڑ جانے کے احساس کے نتیجے میں بچوں میں غصہ، اپنے بھائی بہنوں پر جسمانی تشدد یا پھر گوشہ نشینی جیسے ردِ عمل ظاہر ہوتے ہیں۔ والدین اور دیگر اہلِ خانہ ان تبدیلیوں کو بہت جلد پہچان سکتے ہیں۔اس صورت میں اساتذہ، اسکول انتظامیہ اور والدین کا باہمی تعاون بچے کو ذہنی و جسمانی سکون فراہم کرتا ہے۔ بچوں کی ذہنی نشو و نما میں کتاب بینی، کہانی اور داستان اہم کردار ادا کرتے ہیں۔چھوٹے بچوں کو اْن کی عمر کے مطابق معیاری کہانیاں، سبق آموز واقعات، اچھے مزاح اور پہیلیاں پڑھ کر سنائیں۔ اس سے بچوں میں ذخیرہ الفاظ میں اضافہ اور مختلف کیفیات کا ادراک ہوتا ہے۔بڑے بچوں کو کتاب بینی کی عادت ڈالیں۔بچوں کے ساتھ مختلف کھیل کھیلیں، تاکہ اس کے اندر ہار تسلیم کرنے اور آگے بڑھنے کی لگن پیدا ہو۔ بچوں کا جسمانی، ذہنی اور اخلاقی تحفظ پورے معاشرے کی ذمے داری ہے ۔ پچھلی دہائیوں میں خاندان اور اہلِ محلہ اس فریضے کو باخوبی انجام دیتے، لیکن اب خاندانی اور معاشرتی تانے بانوں میں تبدیلیوں اور دوریوں کے باعث یہ ذمے داری والدین پر زیادہ عائد ہو گئی ہے۔