صنعتی ادارے مکمل بند ، مزدور کے غائب ہونے پر حکومت بھی خواب غفلت میں
حیدرآباد۔7مئی(سیاست نیوز)لاک ڈاؤن سے صنعتوں اور اداروں کے علاوہ ملازمین کی صورتحال اور لاک ڈاؤن کے بعد معاشی حالات پر مباحث کے دوران کسی بھی گوشہ کی جانب سے ان بچوں کے متعلق کوئی غور نہیںکیا جا رہاہے جو غریب الوطنی کے عالم میں بچہ مزدوری کا شکارہوتے ہیں اور اب جبکہ تمام صنعتی ادارے بند ہیں تو آخر یہ بچہ مزدور ہیں کہاں کیونکہ ان کے متعلق کوئی اطلاعات باہر نہیں آرہی ہیں اور نہ ہی ان بچہ مزدوروں کی گھر واپسی کے انتظامات کے سلسلہ میں اقدامات کی کوئی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ شہر حیدرآباد ہی نہیں بلکہ ملک کے کئی اہم شہروںمیں اضلاع اور دیہی علاقوں سے بچے اپنے گھر والوں کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے پہنچتے ہیں اور ملک کے کئی شہروں میںان بچہ مزدوروں سے بندھوا مزدوروں کی طرح کام لیا جاتا تھا لیکن لاک ڈاؤن کے بعد سے ان بچہ مزدوروں کے متعلق کوئی کچھ نہیں کہہ رہا ہے اور نہ ہی ان کے تحفظ کے سلسلہ میں کوئی اقدامات کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ ریاستی حکومتوں کے عہدیداروں کو مدارس میں موجود طلبہ نظر آرہے ہیں جنہیں منتظمین مدارس کی جانب سے رہائش اور طعام کی سہولت فراہم کرتے ہوئے مدرسہ میں رکھا گیا ہے لیکن ان عہدیداروں کی نگاہیں ان بچہ مزدوروں کو تلاش نہیں کر رہی ہیں جو اس موقف میں بھی نہیں ہیں کہ اپنے والدین یا سرپرستوں کو بتا سکیں کہ وہ کہاں اور کسی حال میں زندگی گذار رہے ہیں۔ ملک کے کئی اہم شہروں اور نواحی علاقوں میں ان بچہ مزدوروں کو بندھوا مزدور کے طور پر رکھا جا تا ہے اور کام کرنے پر ہی ان کی اجرت ادا کی جا تی ہے ۔ بچہ مزدوری کرنے والے وہ بچے جو فٹ پاتھ پر کانٹے یا ربر و چوڑیاں فروخت کیا کرتے تھے یا پھر سگنل پر گداگری کرنے والے بچے کہاں ہیں!لاک ڈاؤن کے دوران وہ کس حالت میں زندگی گذار رہے ہیںکوئی ان کی خبر لینے والا ہے یا پھر انہیں ان کے آجرین کے حوالہ کردیا گیا ہے ۔ بچہ مزدوروں کو تباہی اور بد حالی سے بچانے کے لئے لازمی ہے کہ محکمہ لیبر اور انسداد بچہ مزدوری کو فوری حرکت میں آتے ہوئے ان تمام ممکنہ مقامات پر بچہ مزدوروں کی تلاشی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے جہاں ان بچوں کو رکھا جاسکتا ہے ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہری علاقوں کے قریب چلائی جانے والی گھریلو صنعتوں میں خدمات انجام دینے والے بچہ مزدروں کو جنہیں باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی ان بچوں کو ان کے آجرین نے اب تک بھی محروس رکھا ہوا ہے کیونکہ لاک ڈاؤن کے اختتام کے بعد ان آجرین کا احساس ہے کہ ملک میں بالخصوص شہری علاقوں میں افرادی قوت کی قلت کے باعث مزدوری میں زبردست اچھال ریکارڈ کیا جائے گا اور ان حالات میں اگر ان بچوں کو چھوڑدیا جاتا ہے تو انہیں واپس لایاجانا مشکل ہوجائے گا۔ بتایاجاتا ہے کہ آجرین کی جانب سے بچہ مزدوروں کو رہا نہ کئے جانے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ اگر لاک ڈاؤن کے دوران انہیں باہر نکلنے دیا جاتا ہے تو ایسی صورت میںان کی یہ غیر قانونی سرگرمیا ں منظر عام پر آجائیں گی اسی لئے ان بچوں کی واپسی کے کوئی انتظامات نہیں کئے جارہے ہیں اور نہ ہی یہ بتایاجارہا ہے کہ بچہ مزدورکہاں ہیں اور کس حالت میں زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ حقوق اطفال اور بچہ مزدوروں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ جو بچہ مزدور سرکاری شیلٹرس میں ہیں وہ محفوظ ہیں اور جن بچوں کے لئے کوئی گھر نہیں تھا یا جو فٹ پاتھ پر رہتے تھے وہ کس حال میں ہیں کوئی نہیں بتا سکتا بلکہ بعض والدین کو بھی اپنے بچوں کے متعلق تفصیلات کا علم نہیں ہے اور نہ ہی وہ ان سے رابطہ کے موقف میں ہیں۔