بھارت جوڑو یاترا

   

Ferty9 Clinic

کس لیے جیتے ہیں ہم کس کے لیے جیتے ہیں
بارہا ایسے سوالات پہ رونا آیا


سابق کانگریس صدر راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کا آج آغاز ہونے والا ہے۔ کنیا کماری سے کشمیر تک اس یاترا کے ذریعہ راہول گاندھی نفرت کے ماحول کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کریں گے۔ آج ملک بھر میں جس طرح کا ماحول پیدا کردیا گیا ہے وہ نفرتوں سے بھرا ہوا ہے۔ عوام کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت گھول دی گئی ہے۔ جو لوگ کبھی ایک دوسرے کے سکھ دکھ کے ساتھی ہوا کرتے تھے اور ایک دوسرے کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہا کرتے تھے اب وہ ایک دوسرے سے بیگانے ہوگئے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ نفرت و بیزارگی کا اظہار کررہے ہیں۔ ایک دوسرے کی مدد کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو نشانہ بنانے پر اتر آئے ہیں۔ جہاں لوگ ایک دوسرے کی عید و تہوار میں بڑے جوش و خروش سے شرکت کرتے تھے وہ عبادتگاہوں کو نشانہ بنانے لگے ہیں۔ کہیں مذہب کے نام پر دوسروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے تو کہیں اذان پر اعتراض ہورہا ہے۔ کہیں نماز کی ادائیگی پر اعتراض ہورہا ہے تو کہیں لباس کی وجہ سے نفرت ظاہر کی جارہی ہے۔ کہیں حجاب کے استعمال پر اعتراض کررہے ہیں تو کہیں حلال غذا پر پابندی کی بات ہورہی ہے۔ کہیں مدارس کے وجود پر بے چینی محسوس کرکے ان پر بلڈوزر چلایا جارہا ہے تو کہیں مساجد وغیرہ کی بے حرمتی ہورہی ہے۔ کسی کو گوشت کے استعمال پر اعتراض ہے تو کسی کو بچوں کی تعداد پر بے چینی ہورہی ہے۔ کوئی آبادی پر قابو پانے کی بات کررہا ہے تو کوئی کثرت ازدواج پر تنقید کررہے ہیں۔ ملک کے عوام کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ مہنگائی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ دودھ، ترکاری اور دالوں کی قیمتیں بے تحاشہ بڑھ گئی ہیں۔ بیروزگاری انتہا پر ہے نوجوان عدم اطمینان کا شکار ہیں لیکن ان مسائل پر کسی کی توجہ نہیں ہے۔ صرف ہندو۔مسلم پر توجہ دے کر عوام کی توجہ بھٹکائی جارہی ہے۔ نزاعی و اختلافی مسائل پر لگاتار مباحث کرواتے ہوئے ماحول کو مزید پراگندہ کیا جارہا ہے۔ کوئی بھی اس بات پر توجہ دینے تیار نہیں ہے کہ اس طرح سے ملک کا پرامن ماحول متاثر ہورہا ہے۔ اس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی صورتحال بگڑرہی ہے۔ ایسا ہونا ملک کی ترقی کو متاثر کرسکتا ہے۔ اس سے بیروزگاری اور مہنگائی مزید بڑھے گی اور عوام کے مسائل میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ اس کے باوجود یہ سلسلہ جاری ہے۔
ملک کی جو موجودہ صورتحال ہے وہ اس بات کی متقاضی ہے کہ ملک میں نفرتوں کے ماحول کو ختم کیا جائے۔ عوام کے دلوں سے نفرت کو ختم کرنے کی سمت پہل کی جائے۔ عوام میں ایک دوسرے سے جو بیزارگی اور دوری پیدا ہوئی ہے اس کو دور کرنے کی سعی کی جائے۔ عوام کو ایک دوسرے سے دوبارہ قریب لانے کی جدوجہد کی جائے۔ لوگوں کو ایک بار پھر سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی اہمیت سے واقف کروایا جائے۔ عوام میں یہ شعور بیدار کیا جائے کہ نفرت کا ماحول کسی کے لیے بھی ٹھیک نہیں ہے۔ اس سے سماج میں بے چینی پیدا ہوگی۔ ترقی کے امکانات متاثر ہوں گے۔ مسائل کی یکسوئی سے توجہ ہٹ جائے گی۔ امن و امان کی صورتحال بگڑتی جائے گی۔ جب لوگ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی صورتحال کی اہمیت سے واقف ہوجائیں گے اور نفرتوں کے اثر کو زائل کردیا جائے گا تو نفرت کو ہوا دینے اور ماحول کو پراگندہ کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ سماج میں ان کی وقعت و اہمیت گھٹ جائے گی۔ ملک بھر میں ایک بار پھر سے بھائی چارہ کا فروغ ہوگا اور ہندوستان جنت نشان کی انفرادیت کو پھر سے بحال کر پائے گا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ سارے بھارت کو جوڑا جائے۔ علاقہ واریت کے جذبات کا استحصال کوئی بھی کرنے نہ پائے۔ فرقہ وارانہ احساسات کا کوئی ناجائز فائدہ حاصل کرنے نہ پائے۔ اگر ایسا ہوجائے تو پھر ہمارا ملک ایک بار پھر سے امن کا گہوارہ بن جائے گا۔ سارے ملک کا ماحول مثبت ہوجائے گا اور امن و امان کا بول بالا ہوجائے گا۔ ملک کی ترقی پر توجہ دی جاسکے گی۔
ملک کے موجودہ ماحول میں کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے نفرت کے ماحول کے خلاف یاترا کا جو منصوبہ بنایا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ اس یاترا کے اگر کچھ سیاسی اغراض ہیں تو ہی سیاسی لوگ جانیں لیکن فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے سبھی کو توجہ کرنی چاہئے۔ محبت اور امن و آشتی کے پیام کو عام کرنا چاہئے۔ عوام کے دلوں سے نفرت اور خوف کو ختم کرتے ہوئے انہیں ایک دوسرے سے قریب لانا چاہئے۔ عوام کے دلوں میں محبت اور اخوت اور بھائی چارہ کے حقیقی مفہوم کو واضح کرنا چاہئے اور اس کام کے لیے راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا ایک اچھا پلیٹ فارم ثابت ہوسکتی ہے۔