اسکولوں کوتعطیل، کروز شپ جھیل میں غرق، مزید شدید بارش کی پیش قیاسی
بھوپال : ریاست مدھیہ پردیش میں شدید اور موسلا دھار بارش نے آج تباہی مچادی ہے۔ریاست میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تیز ہواؤں کے ساتھ 1500 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔دارالحکومت بھوپال میں کئی پیڑ جڑ سے اکھڑگئے اور ان پیڑوں کے گرنے سے کئی گاڑیاں بھی تباہ ہوگئی ہیں اور سڑکیں جھیلوں میں تبدیل ہوگئی ہیں اور نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔مرکزی محکمہ موسمیات کیمطابق بارش کاسلسلہ آئندہ 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا۔اورحالات کو دیکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے بھوپال کے تمام تعلیمی اداروں کو تعطیل دے دی گئی ہے۔میڈیا اطلاعات میں بتایا جارہا ہے کہ تیز ہواؤں کے باعث بھوپال شہر میں ہی زائداز 100 پیڑ جڑ سے اکھڑ کر گرگئے ہیں۔ایسے حالات کے دوران مرکزی محکمہ موسمیات نے آج بھوپال، اجین، جبل پور، رتلام، نیمچ اور مندسورسمیت ریاست مدھیہ پردیش کے 39 اضلاع میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دؤران مزید شدید ترین بارش کی پیش قیاسی جاری کرتے ہوئے ریڈ الرٹ جاری کردیا ہے۔جس سے عوام کی مصیبتیں مزیر بڑھ گئی ہیں۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال شہرمیں آج پیر کی صبح تیز ہواؤں اور شدیدبارش کے باعث بالائی جھیل(بڑا تالاب) میں ایک کروزشپ پانی میں غرق ہوگئی۔اس جھیل کی لہریں 20 فٹ بلند ہوتی ہوئی دیکھی گئیں۔یہ شہر کاسیاحتی مقام ہے۔شدید بارش کے باعث بھوپال کی سڑکیں زیر آب آگئیں اور عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔مدھیہ پردیش کے وزیراعلی شیوراج سنگھ چوہان نے عہدیداروں اور عوام کو چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے۔اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صورتحال قابو میں ہے۔اور مدھیہ پردیش میں گزشتہ دو دنوں سے مسلسل شدید اور موسلادھار بارش جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ بھوپال، گنا، رائسین، ساگر،جبل پور سمیت کئی اضلاع میں لگاتار بارش کا سلسلہ جاری ہے اور ریاست کے تمام ضلع انتظامیہ کو بارش کے پیش نظر الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔وزیراعلیٰ مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان نے ریاست کے عوام سے اپیل کی ہے وہ ان حالات میں حکومت اورضلع انتظامیہ سے تعاون کریں اور شدیدبارش کے دوران چوکس رہیں۔انہوں نے کہاکہ عوام ایسی جگہوں پر نہ جائیں جہاں پانی جمع ہونے کی صورتحال پیدا ہو۔ دریاؤں، تالابوں، ڈیموں وغیرہ جیسی جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔اضلاع میں انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ ہدایات پرعمل کریں اورانتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ’’ نرمدا،شپرا،بیتوا،سندھ اورشیونا سمیت کئی ندیاں خطرے کے نشان پر پہنچ گئی ہیں جبکہ سلائس گیٹ میں پانی کے ذخیرہ کو دیکھتے ہوئے اس ڈیم کے 25 دروازے کھول دئیے گئے ہیں۔دوسری جانب ضلع کلکٹرنے خبررساں ادارہ اے این آئی کو بتایا کہ نرمداپورم کا ضلع انتظامیہ ہائی الرٹ پر ہے کیونکہ دریائے نرمدا تیز رفتاری سے بہہ رہی ہے جس سے نشیبی علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ پچھلے دو دنوں میں اس علاقہ میں شدید اورموسلادھاربارش کے بعد ندی کی سطح آب میں اضافہ ہوا ہے۔نرمداپورم میں پانی کی سطح بڑھنے اورخطرے کے نشان کو چھونے کے بعد انتظامیہ چوکس ہے کیونکہ اس کی سطح خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پانی کے مزید بڑھنے اور سیلاب کی صورتحال پیدا ہونے کی صورت میں ہم صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔اور پہلے ہی اس علاقہ کے عوام کومحفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔