بی آر ایس کے الزامات کا جواب دیا گیا، دلتوں کی توہین کی تفصیلات پیش
حیدرآباد۔9۔ستمبر (سیاست نیوز) بی آر ایس قائدین کی گورنر شیو پرتاپ شکلا سے ملاقات کے فوری بعد ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے ریاستی وزراء کے ہمراہ گورنر سے ملاقات کی اور بی آر ایس قائدین کی جانب سے دلتوں کی توہین کی شکایت کرتے ہوئے تفصیلات سے واقف کرایا۔ بھٹی وکرمارکا کے ہمراہ ریاستی وزراء دامودر راج نرسمہا ، پونم پربھاکر ، ڈی انوسویا سیتکا ، وی سری ہری ، لکشمن کمار ، محمد اظہرالدین اور جی ویویک وینکٹ سوامی موجود تھے ۔ گورنر کو بی آر ایس ارکان کونسل کی جانب سے دلت طبقہ سے تعلق رکھنے والے اسپیکر پرساد کمار اور ان کی ماں کے بارے میں کئے گئے قابل اعتراض ریمارکس سے واقف کرایا گیا۔ گورنر کو کل ایراولی میں دلتوں کی توہین کی تفصیلات سے بھی واقف کرایا گیا۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ بی آر ایس قائدین دلت طبقہ کی مسلسل توہین کر رہے ہیں اور حکومت پر بے بنیاد الزام تراشی کی جارہی ہے۔ اسپیکر اسمبلی کے خلاف توہین آمیز بیان پر بی آر ایس کی جانب سے افسوس کا اظہار تک نہیں کیا گیا۔ گورنر کو بتایا گیا کہ کے سی آر کے فارم ہاؤز کے قریب کل دلتوں نے احتجاج کیا تھا، بعد میں شدھی کرن کے نام پر بی آر ایس قائدین نے ہلدی کے پانی سے احتجاج کے مقام کو دھویا جو دلتوں سے ان کی نفرت کا ثبوت ہے۔ بھٹی وکرمارکا نے میڈیا میں شائع شدہ خبروں کی تفصیلات سے گورنر کو واقف کرایا ۔ بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ریاستی وزراء نے کہا کہ ایراولی میں شدھی کرن کے ذریعہ بی جے پی نے دلتوں سے اپنے نفرت کا ثبوت دیا ہے۔ تلنگانہ میں 90 فیصد آبادی کمزور اور پسماندہ طبقات پر مشتمل ہے اور کانگریس پارٹی سماجی انصاف کی فراہمی کیلئے کام کر رہی ہے۔ گورنر کو تفصیلی یادداشت پیش کی گئی جس میں گزشتہ تین دن کے واقعات کی تفصیلات پیش کی گئیں جن میں پولیس کے ساتھ بی آر ایس ارکان اسمبلی کی جھڑپ کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ 1/k/m/b