بھینسہ میں امبیڈکر کے مجسمہ کو توڑنے کے خلاف دلتوں کا زبردست احتجاج

   

بسوں پر سنگباری ، پولیس کا لاٹھی چارج ، حالات کشیدہ مگر قابو میں ، افواہوں پر دھیان نہ دینے عوام سے ایڈیشنل ایس پی کی اپیل

بھینسہ :بھینسہ میں دوپہر کے اوقات میں بس اسٹانڈ کے روبرو واقع امبیڈکر مجسمے کو ایک شخص کی جانب سے نقصان پہنچاتے ہوئے مجسمہ کے ایک ہاتھ ،آنکھ اور کتاب کو توڑدیا جس کی اطلاع جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور افواہوں کا بازار گرم ہوگیا جس کے ساتھ دلت طبقے کے سینکڑوں افراد بشمول نوجوان طبقہ ،خواتین اور دلت طبقے کے ذمہ داران مقام واقع پہنچ گئے جبکہ بڑے پیمانے پر اہم شاہراہ پر راستہ روکو احتجاج شروع ہوگیا جس پر بھینسہ ایڈیشنل ایس پی کرن کھرے آئی پی ایس ،ٹاؤن سرکل انسپکٹر پراوین کمار ،رورل سرکل انسپکٹر چندرشیکھر ،سب انسپکٹران گنگارام ،محمد غوث ، درشن سرنیواس ، شیوا ،محمد سراج ، صادق حْسین ، سائی کرن رورول بھاری پولیس جمعیت کے ہمراہ پہنچ کر سمجھانے کی کوشش کی لیکن احتجاجی بضد تھے اور پولیس کی موجودگی میں آر ٹی سی کے تین بسوں پر سنگباری کرتے ہوئے شیشے توڑ دیئے گئے جس پر مسافرین خوف کے ماحول میں مبتلا ہوگئے جبکہ بس اسٹانڈ علاقے میں موجود فروٹ کی بنڈیوں ، دْکانوں کو زبردستی بند کرواتے ہوئے نعرے بازی اور شدید احتجاج کرتے ہوئے بضد تھے اس حالات کو دیکھتے ہوئے مجبوراًپولیس کو لاٹھی چارج کرتے ہوئے احتجاجیوں کو منتشر کرنا پڑا ۔ لیکن احتجاجی اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے تھے اسی اثنا میں ایڈیشنل ایس پی کرن کھرے آئی پی ایس نے میڈیا کو بتایاکہ بھینسہ میں ایک شخص نے امبیڈکر مجسمہ کو نقصان پہنچایا جس پر دلت طبقے کی جانب سے احتجاج کرتے ہوئے آرٹی سی بسوں کو نقصان پہنچایا گیا لیکن پولیس نے فورا متحرک ہوکر حالات کو قابو کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ بھینسہ میں حالات مکمل قابو میں اور بہتر ہے اور خاطی کو گرفتار کرتے ہوئے تمام زاویوں سے تحقیقات کی جارہی ہے خاطی کے خلاف پی ڈی ایکٹ لگاتے ہوئے عدالتی تحویل میں پیش کیا جائے گا۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی ہیکہ ہرگز افواہوں پر دھیان نہ دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کے متنازعہ پوسٹ وائرل نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے سخت قانونی کارروائی کرنے کا انتباہ دیا اور بھینسہ میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے وجیرا گاڑی کے ذریعہ اعلان کیا جارہاہے جبکہ عوام خوف و ہراس کے ماحول میں کاروباری اور تجارتی اداروں کو بند کرتے ہوئے دیکھے گئے اور کچھ وقفہ میں ہی شہر کے چھوٹے بڑے دکانیں بند ہوگئی جبکہ آرٹی سی بس سرویس کو بس اسٹانڈ سے آمد و رفت معطل کردی گئی مقام واقعہ پر بھینسہ آر ڈی او لوکیشور راؤ ، تحصیلدار وشمبر ، آر آئی پراوین کمار پہنچکر حالات کا جائزہ لیا ۔ واقعہ کے فورا بعد متاثرہ امبیڈکر مجسمے کو پولیس نے کپڑے سے ڈھانک دیا احتجاج کے دوران امبیڈکر تصویر کو دودھ سے نہلایا گیا جبکہ دلت طبقے کے مختلف قائدین جن میں سائیلومیسیکر ،شنکر چندرے ،بھیم ڈونگرے ،راہول دگڑے ،دیویداس ہسڈے ایڈوکیٹ ، مانک دگڑے ، گریدھر جنگمے کے علاوہ دیگر نے پولیس اسٹیشن پہنچکر مذکورہ واقعہ کی مکمل تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا احتجاج کے دوران دلت طبقے کے دو نوجوان انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے پٹرول ڈالکر آگ لگانے کی کوشش کی لیکن دلت طبقے کے افراد اور پولیس نے انھیں بچاتے ہوئے سرکاری دواخانہ منتقل کردیا احتجاج میں مزید شدت پیدا ہونے پر پولیس متحرک ہوکر احتجاجیوں کو حراست میں لیکر حالات کو قابو کرنے میں مصروف دیکھی گئی جبکہ احتجاجی دیگر مقامات پر احتجاج شروع کرنے پر پولیس احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کا سہارا لیا بھینسہ کی عوام میں زبردست تجسس بے چینی اور خوف کا ماحول دیکھا جارہاہے۔