پٹنہ: آسام کے بعد اب بہار میں گائے کے گوشت پر پابندی؟یہ سوال اس لیے ہے کہ بی جے پی جو کہ نتیش حکومت کا حصہ ہے، نے اس کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے آسام حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس معاملے پر این ڈی اے میں تناؤ بڑھ گیا ہے۔جے ڈی یو اور بی جے پی دونوں آمنے سامنے نظر آرہی ہیں۔ بی جے پی ایم ایل اے ہری بھوشن ٹھاکر بچول نے بہار میں گائے کے گوشت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے آسام حکومت کے فیصلے کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔ بچول نے بتایا کہ آسام میں ہندو برادری کے عقیدے کا احترام کیا گیا ہے۔بہار کے کروڑوں لوگ گائے پرآستھا رکھتے ہیں۔ اس کا قتل جائز نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جانوروں کی اسمگلنگ ہوتی ہے۔ بچول نے کہا کہ بہار میں جو گائے کا گوشت بیچتا ہے اسے سزا ملنی چاہئے۔ کھلے عام فروخت ہوتا ہے۔وشواس سے کھیلنے کا کسی کو حق نہیں۔ اس سے تناؤ پھیلے گا۔ بہار میں لائیو سٹاک پروٹیکشن ایکٹ 1956 ہے، لیکن اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔ جے ڈی یو کے ایم ایل سی خالد انور نے اس پر بڑا بیان دیا ہے۔خالد انور نے کہا کہ آسام کے چیف منسٹر کی سوچ منفی ہے۔ بیف پر پابندی این ڈی اے کا ایجنڈا نہیں ہے۔ آسام میں مسلمان اور عیسائی ہیں جن کی خوراک ایک جیسی ہے۔ اب وہ لوگ کیا کریں گے؟ آسام حکومت کا فیصلہ درست نہیں ہے۔ بہار میں گائے کے گوشت پر پابندی نہیں ہوگی۔خالد انور نے کہا کہ بہار بی جے پی میں کچھ لوگ ہیں جن کی سوچ بھی منفی ہے۔ وہی لوگ یہاں پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہم 19 سال سے بہار میں حکومت چلا رہے ہیں۔ ہم نے کبھی ایسی باتوں پر توجہ نہیں دی۔