رخصتِ دوست پہ قابل دلِ مایوس کو دیکھ
ایک سفینہ ہے کہ ساحل سے جدا ہوتا ہے
بہار این ڈی اے میں اختلافات
بہار میں این ڈی اے اتحاد میں اختلافات زور پکڑتے جا رہے ہیں۔ چیف منسٹر نتیش کمار کی قیادت والی جے ڈی یو اور بی جے پی کے قائدین کے مابین ایک دوسرے کے خلاف بیان بازیاں بھی بڑھتی جا رہی ہیں اور اب تو بہار بی جے پی کے صدر نے خود جے ڈی یو قائدین کو انتباہ دیا ہے کہ وہ اپنی حد میںرہیں بصورت دیگر لاکھوں بی جے پی کارکن اس پارٹی کو منہ توڑ جواب دینگے ۔ بہار بی جے پی صدر کی یہ وارننگ بہت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ کوئی عام لب ولہجہ نہیں ہے اور نہ ہی عام زبان ہے ۔ اس طرح کا لب و لہجہ اور زبان اکثر و بیشتر سیاسی مخالفین کے تعلق سے اختیار کیا جاتا ہے تاہم اب بہار میں برسراقتدار اتحاد کی شریک جماعتوں کے قائدین کے مابین اس طرح کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ ان جماعتوں کے مابین اختلافات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیںاور ان کا مستقبل تابناک دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ بی جے پی نے بہار اسمبلی انتخابات کے بعد نتیش کمار کو بحالت مجبوری چیف منسٹر کا عہدہ دیا تھا کیونکہ اسے یہ اندیشہ تھا کہ اگر نتیش کمار کو اس کرسی پر براجمان نہیں کیا گیا تو وہ ایک بار پھر آر جے ڈی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ حالانکہ آر جے ڈی شائد اس بار انہیں چیف منسٹر کا عہدہ دینے سے اتفاق نہیں کرتی ۔ دونوں پارٹیوں کے مابین اختلافات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اترپردیش اسمبلی انتخابات میں اپنا اقتدار بچانے کیلئے تگ و دو کرنے والی بی جے پی نے اترپردیش میں آر جے ڈی سے کوئی اتحاد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آر جے ڈی حالانکہ اس اتحاد کیلئے بے چین تھی اور اس نے کچھ قائدین کو بی جے پی سے مشاورت کی ذمہ داری بھی سونپی تھی ۔ بی جے پی قائدین نے ان سے کسی طرح کی مشاورت نہیں کی اور اپنے طور پر امیدواروں کا اعلان کرتے ہوئے واضح کردیا کہ اس کا اتحاد یو پی میں صرف دو جماعتوں نشاد پارٹی اور اپنا دل سے ہی ہے ۔ اس کے بعد جے ڈی یو نے اترپردیش اسمبلی انتخابات میں تنہا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سے بھی بی جے پی چراغ پا ہے ۔ بہار میں ایک دوسرے کے ساتھ اقتدار بانٹنے والی جماعتیں یو پی میں ایک دوسرے کے مد مقابل ہونگی ۔
ابتداء سے یہ اشارے بھی مل رہے تھے کہ بی جے پی مستقبل میں کسی بھی وقت جے ڈی یو کو حاشیہ پر لا سکتی ہے اور اس کے چند ارکان اسمبلی کو لالچ دیتے ہوئے اپنی صفوں میں شامل کرسکتی ہے اور نتیش کمار کو اقتدار سے ہاتھ دھونا بھی پڑسکتا ہے ۔ ابتدائی ایک سال کا وقت تو نتیش کمار نے جیسے تیسے گذار لیا لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب ان کیلئے آگے کا سفر سہل نہیں ہوگا اور بی جے پی مسلسل انہیں حاشیہ پر لانے کی تگ و دو میں جٹ گئی ہے ۔ اترپردیش اسمبلی انتخابات کے بعد بہار میں بھی تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں۔ اگر بی جے پی وہاں اپنا اقتدار بچانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو پھر نتیش کمار کا مستقبل تاریک ہوسکتا ہے ۔ بی جے پی انہیں کسی بھی وقت حاشیہ پر کرتے ہوئے خود اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کرسکتی ہے ۔ اس کے برخلاف اگر بی جے پی کو اترپردیش میں شکست ہوجاتی ہے تو بی جے پی کے رویہ مدافعانہ ہوسکتا ہے لیکن اس وقت نتیش کمار اپنے سیاسی مستقبل کے تعلق سے فیصلہ کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں اور بی جے پی کا ساتھ کسی بھی وقت چھوڑ سکتے ہیں۔ مستقبل میں جو حالات امکانی طور پر پیش آسکتے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ابھی سے ان دونوں جماعتوں میں چپقلش کا آغاز ہوچکا ہے ۔ جہا جے ڈی یو کے ذمہ دار اور بڑے عہدوں پر فائز قائدین ریاستی قائدین کے خلاف اعلی قیادت سے نمائندگی کر رہے ہیں اور ٹوئیٹس کر رہے ہیں تو وہیں بی جے پی کے ریاستی قائدین بھی جے ڈی یو قائدین کو ان کی اوقات دکھانے میں دیر نہیں کر رہے ہیں ۔
دونوں جماعتوں کے قائدین کے مابین جس طرح کی بیان بازیاں شروع ہوگئی ہیں اس کو دیکھتے ہوئے یہ اندیشے بے بنیاد نہیں ہوسکتے کہ اترپردیش انتخابات کے بعد بہار میں بھی صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے ۔ از سر نو سیاسی صف بندیاں بھی ممکن ہوسکتی ہیں۔ بی جے پی وقتی طور پر جو سہارے ڈھونڈتی ہے اور پھر انہیں ترک کردیا جاتا ہے اس روش کو بدلنے کیلئے پارٹی تیار نظر نہیں آتی ۔ نتیش کمار نے محض اقتدار کی خاطر بی جے پی کا ساتھ لیا ہوا ہے لیکن انہیں اپنے مستقبل کی فکر لاحق ہوگئی ہے اور جو آثار و قرائن سے پتہ چلتا ہے وہ یہ ہے کہ خود نتیش کمار بھی اترپردیش اسمبلی انتخابات کے بعداپنے مستقبل کے تعلق سے بڑا فیصلہ کرسکتے ہیں۔
