بہار ‘ ذات پات پر مبنی مردم شماری

   

بہار میں بالآخر ذات پات پر مبنی مردم شماری کا فیصلہ کرلیا گیا ہے ۔ چیف منسٹر نتیش کمار نے اپنی حلیف جماعت بی جے پی کی جانب سے ابتداء میں مخالفت کے باوجود اس تجویز کو آگے بڑھایا اور اب کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی بھی اس تجویز سے اتفاق کرچکی ہے اور اپوزیشن راشٹریہ جنتادل تو اس کی ابتداء سے حامی رہی ہے ۔ اس طرح بہار میں ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری سے اتفاق ہوگیا ہے اور اس فیصلے کو کابینہ میں پیش کرتے ہوئے منظوری حاصل کرلی جائے گی ۔ کابینہ میں منظوری کے بعد ریاست میں جب اس فیصلے پر عمل ہوگا تو ہندوستان میں بہار پہلی ریاست ہوگی جہاں ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کی جائے گی ۔ ویسے تو سارے ہندوستان میں پسماندہ طبقات کا مسلسل اصرار ہے کہ ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کی جائے ۔ اس سے آبادی میں ہر طبقہ کی حصہ داری واضح ہوجائے گی اور ان کا تناسب بھی سامنے آجائیگا ۔ پسماندہ طبقات کا کہنا ہے کہ جب آبادی میں تناسب طئے ہوجائیگا تو سرکاری اسکیمات وغیرہ میں بھی حصہ داری سے ان طبقات کو فائدہ ہوسکتا ہے ۔ بہار کی سیاست چونکہ زیادہ تر ذات پات کی بنیادوں کے اطراف ہی گھومتی ہے اس لئے ریاست میں یہ فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ بہار کی سیاست مسائل سے زیادہ ذات پات کے گرد گھومتی ہے ۔ یہی حال اترپردیش کا بھی ہے ۔ وہاں بھی کئی گوشوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کی جائے ۔ دوسری ریاستوں میں بھی جہاں پسماندہ طبقات کی آبادی زیادہ ہے یہ مطالبات ہوتے رہتے ہیں کہ صرف مردم شماری سے گریز کرتے ہوئے آبادی کی گنتی کی روایت کو ختم کیا جانا چاہئے اور ذات پات کا اندراج کرتے ہوئے سماج میں مختلف طبقات کی آبادی کا تعین کیا جانا چاہئے ۔ جہاں تک بی جے پی کاسوال ہے تو بی جے پی اعلی ذات والوں کی پارٹی کی حیثیت سے مشہور ہے ۔ اس میں اہم اور بڑے عہدے اعلی ذات والوںہی کو دئے جاتے ہیں جبکہ ووٹ پسماندہ طبقات کے حاصل کئے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی اب تک ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کی کھلی مخالفت نہیں کرتی ہے ۔
تاہم جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے وہ مرکز اور ملک کی بیشتر ریاستوں میں برسر اقتدار رہنے کے باوجود ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کروانے سے گریز کرتی رہی ہے ۔ بی جے پی کو اندیشے لاحق ہے کہ اگر وہ ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کرواتی ہے تو اس کا اثر دوسرے طبقات کے ووٹ بینک پر پڑسکتا ہے ۔ جب آبادی میں پسماندہ طبقات کے تناسب کا تعین ہوجائیگا تو وہ سرکاری اسکیمات اور ملازمتوں کے علاوہ تعلیم اور دیگر شعبہ جات میں آبادی کے حساب سے حصہ داری کیلئے اصرار کرینگے ۔ دوسرے طبقات اس سے ناراض ہوجائیں گے اور اس کا اثر بی جے پی کے سیاسی اور انتخابی امکانات پر پڑے گا ۔ جو علاقائی جماعتیں مختلف ریاستوں میں اپنا وجود رکھتی ہیں ان کا بھی اصرار ہے کہ ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کی جائے ۔ اترپردیش میں بھی اس مطالبہ میں شدت پیدا ہو رہی ہے ۔ دوسری ریاستوں کی جماعتیں بھی اس مطالبہ کی حامی ہیں۔ ان جماعتوں کا پسماندہ طبقات میں خاصا اثر ہے اور ووٹ بینک بھی پایا جاتا ہے ۔ علاقائی جماعتیں اپنے اس ووٹ بینک کو کھونا نہیںچاہتیں۔ وہ پسماندہ طبقات کے مطالبہ کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے ووٹ بینک کو مزید مستحکم کرنا چاہتی ہیں۔ مرکزی حکومت سے بھی یہ جماعتیں بارہا اصرار کرچکی ہیں کہ اس طرح کا فیصلہ کیا جائے لیکن بی جے پی حکومت نے اس مطالبہ کو ابھی تک پورا نہیں کیا ہے حالانکہ کھل کر اس کی مخالفت سے بھی گریز ہی کیا گیا ہے ۔
اب جبکہ بہار میںیہ فیصلہ ہوچکا ہے اور بہار کے اقتدار میں بی جے پی کی حصہ داری ہے بلکہ بڑی جماعت بی جے پی ہی ہے تو اس کے اثرات دوسری ریاستوں پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں اور وہاں بھی یہ مطالبہ شدت اختیار کرسکتا ہے ۔ بی جے پی کیلئے اس مسئلہ پر بہار میں ایک موقف اختیار کرنا اور دوسری ریاستوں میں مختلف موقف اختیار کرنا آسان نہیںہوگا ۔ اس سے راست سوال ہونگے ۔ بہار کے بعد دوسری ریاستوں میں بھی جہاں علاقائی جماعتیں برسر اقتدار ہیں اس طرح کا فیصلہ کرسکتی ہیں۔ بی جے پی کیلئے اس مسئلہ پر حکمت عملی آسان نہیں ہوگا اور کوئی بھی موقف طئے کرنا اس کیلئے آسان نہیں ہوگا ۔ وہ کسی بھی قیمت پر اپنے ووٹ بینک کو متاثر کرنا نہیںچاہے گی ۔ ایسے میں پارٹی کیا موقف اختیار کرتی ہے وہ اہمیت کا حامل ہوگا ۔