بہار میں اردو، عربی اور فارسی ٹیچرس کے ساتھ امتیازی سلوک!

   

اپوزیشن قائد تیجسوی یادو کا چیف منسٹر سمراٹ چودھری کے نام مکتوب

پٹنہ۔11؍اگست ( ایجنسیز)بہار اسمبلی میں قائد اپوزیشن اور آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے سرکاری اسکولوں میں اردو، عربی اور فارسی اساتذہ کے تبادلے اور امداد یافتہ مدارس و سنسکرت اسکولوں کے اساتذہ و ملازمین کی بقایا تنخواہ کے حوالے سے چیف منسٹرٰ سمراٹ چودھری کو خط لکھا ہے اور ایکس پر اسکی کاپی شیئر کی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ بہار میں اساتذہ کے تبادلے کے موجودہ طریقۂ کار کو لے کر مسلسل شکایتیں موصول ہو رہی ہیں۔ خاص طور پر اردو، عربی اور فارسی اساتذہ کے ساتھ مبینہ امتیازی اور قوانین کے خلاف برتاؤ کیے جانے سے اساتذہ میں بڑے پیمانے پر عدم اطمینان پایا جا رہا ہے۔اپنے انتہائی تشویش ناک امر یہ ہے کہ کئی اسکولوں میں اردو، عربی اور فارسی کے واحد استاذ کو بھی ’سرپلس‘ (زائد) قرار دے کر تبادلے کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔ انہوںنے خط میں 5 سال سے کم مدت ملازمت والے اساتذہ، کنٹریکٹ اساتذہ اور حال ہی میں تبادلہ حاصل کرنے والے اساتذہ کے نام فہرست میں شامل کیے جانی کی شکایتوں کا بھی ذکر کیا۔ سنسکرت کے ساتھ ساتھ اردو بھی ہندوستان کی سرزمین میں پروان چڑھی مشترکہ تہذیبی ورثے کی زبان ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ دونوں زبانوں کے ساتھ برابری اور احترام کا سلوک کیا جائے۔سابق نائب وزیر اعلیٰ نے سرکاری اسکولوں میں اردو اور سنسکرت مضامین کے اساتذہ کی دستیابی کو یقینی بنانے کی سمت میں ٹھوس فیصلہ لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے امداد یافتہ مدارس اور سنسکرت اسکولوں کے اساتذہ و ملازمین کی تقریباً 5 سے 6 مہینوں سے بقایا تنخواہ کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ ساتھ ہی تیجسوی یادو نے متعلقہ افسران کی جوابدہی طے کرنے اور قصوروار پائے جانے والے افسران کے خلاف قوانین کے مطابق کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اساتذہ کے ساتھ ناانصافی اور طلبہ کے تعلیمی حقوق کو نظر انداز کرنا کسی بھی صورت میں ناقابل قبول ہے۔