نئی دہلی : انجمن محافظ اردو بہار، کے جنرل سکریٹری سید فضل وارث نے وزیر اعلی نتیش کمار سے صوبہ بہار میں اردوکے لزوم برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوے مطالبہ کیا کہ بہار اردو اکیڈمی، اردو مشاورتی کمیٹی اور بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی جلد از جلد تشکیل نو کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں کی تشکیل نو نہ ہونے کے سبب ان کی سرگرمیاں متاثرہورہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس ضمن میں بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی تشکیل نو کرکے اس کی ذمہ داری ایک ایمان دار شخص کو سونپنے ،اردو مشاورتی کمیٹی بہار کی تشکیل نو کر کے اردو آبادی کی تشویش کو دور کریں اور اسی کے ساتھ تعطل کی شکار بہار اردو اکاڈمی بلاتاخیر تشکیل نو کریں۔ 1912 سے قائم شدہ 1919میں حکومت بہار کی تحویل میں دیے جانے کے بعد 1920 سے حکومت بہار کی زیر نگرانی تعلیمی خدمات انجام دینے والے مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی میں مختلف مضامین کے اساتذہ بحال کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ صوبہ بہار میں برسہا برس کی انتھک جد وجہد کے بعد 1980 میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیے جانے کے بعد 1981 میں قانون اردو مکمل عمل ونفاذ کے لیے عزت مآب گورنر بہار کے حکم سے احکامات جاری ہوئے اور متعدد سرکاری مکتوب میں کہا گیا کہ اردو کی ترویج واشاعت کے لیے حکومت پابند عہد ہے لیکن مقام افسوس ہے کہ صوبہ بہار کے سکنڈری وہائرسکنڈری اسکولوں میں محکمہ تعلیم بہار کے لٹرنمبر 799 مورخہ 15/05/2020 کے ذریعہ اردو کے لزوم کو ختم کرکے اختیاری کردیا گیا۔