چند ماہ قبل ہی بہار میںشاندار کامیابی حاصل کرنے والے نتیش کمار ایسا لگتا ہے کہ اب اقتدار سے دوری اختیار کرتے ہوئے سبکدوشی اختیار کرنے والے ہیں اور ریاست میں بی جے پی لیڈر کو چیف منسٹر کا عہدہ دیا جائے گا ۔ جو آثار و قرائن ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ نتیش کمار کو راجیہ سبھا بھیج دیا جائے گا اور ریاست میں چیف منسٹر کا عہدہ کسی بی جے پی لیڈر کو دیا جائے گا اور نتیش کمار کے فرزند نشانت کمار کو ڈپٹی چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف دلایا جائے گا ۔ نشانت کمار ویسے تو سیاسی سرگرمیوں سے دور رہی رہا کرتے تھے تاہم حالیہ چند ماہ سے ان کے تذکرہ شروع ہوئے تھے اور اب یہ واضح ہونے لگا ہے کہ وہ بہار کے ڈپٹی چیف منسٹر ہونگے ۔ نتیش کمار کو چیف منسٹر کی گدی سے ہٹانے کے اشارے تو ویسے بھی 2025 کے اسمبلی انتخابات سے قبل ہی مل رہے تھے ۔ تاہم بہار میں نتیش کمار کی مقبولیت اور اسمبلی انتخابات کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے بی جے پی نے اپنے منصوبوں پر فوری عمل کرنے سے گریز کیا ۔ جلد بازی نہیں کی گئی اور اب چند ماہ بعد نتیش کمار کو چیف منسٹر کا عہدہ چھوڑنے کیلئے رضامند کرلیا گیا ہے ۔ وہ بہت جلد چیف منسٹر کا عہدہ چھوڑ کر راجیہ سبھا کیلئے انتخاب لڑیں گے اور بہار میں ڈپٹی چیف منسٹر کی ذمہ داری نتیش کمار کے فرزند نشانت کمار کو دی جائے گی ۔ یہ بہار میں ہونے والی ایک بہت بڑی تبدیلی کہی جاسکتی ہے کیونکہ بہار میں این ڈی اے کو لگاتار جوا قتدار حاصل ہو رہا تھا کہا جا تا ہے کہ اس کی اصل اور بنیادی وجہ نتیش کمار کا چہرہ تھا ۔ نتیش کمار بحیثیت چیف منسٹر بہار میں مقبولیت رکھتے تھے اور پسند کئے جاتے تھے ۔ بی جے پی کو بھی اس بات کا پوری طرح سے اعتراف تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ نتیش کمار کی جانب سے ایک سے زائد بار اتحاد کی تبدیلی کے باوجود بی جے پی نے ہر بار نتیش کمار کا انتظار کیا ۔ انہیں منایا اور پھر ان کے ساتھ دوبارہ اتحاد کرتے ہوئے اقتدار میں شراکت داری اختیار کی ۔ اب بی جے پی کے ہاتھ میںہی اقتدار آنے والا ہے اور بی جے پی کا ایک دیرینہ خواب پورا ہونے جا رہا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں بہار کی سیاست میں بھی بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آسکتی ہیں۔
بی جے پی کا دیرینہ منصوبہ رہا ہے کہ وہ وبہار میں اپنا چیف منسٹر بنائے ۔ بی جے پی کے سینئر سابق لیڈر آنجہانی سشیل کمار مودی بھی مسلسل کوشش کرتے رہے کہ ریاست میں بی جے پی کو سیاسی برتری اور بالادستی دلاسکیں تاہم وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکے ۔ وہ ریاست کے ڈپٹی چیف منسٹر ضرور رہے تھے لیکن چیف منسٹر کا عہدہ حاصل نہیں کرپائے ۔ بہار میں شائد یہ پہلی بار ہوسکتا ہے جب کسی بی جے پی لیڈر کو چیف منسٹر کا عہدہ حاصل ہو تا۔ یہ بی جے پی کی صبر آزما پالیسی کا نتیجہ ہی کہا جاسکتا ہے کیونکہ بی جے پی نے کئی بار نتیش کمار کی شرائط کو تسلیم کرتے ہوئے ہمیشہ انہیں کو آگے رکھا تھا اور اسی وجہ سے بی جے پی بہار کی سیاست میں اپنا حلقہ اثر برقرار رکھ پائی اور اس کو وسعت دی جاسکی ۔ بی جے پی کو اب صبر کا پھل ملنے والا ہے اور بہار میں اپنا چیف منسٹر بنانے کا اس کا خواب پورا ہونے جا رہا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس پر ابھی باضابطہ کوئی تبصرہ نہیںہوا ہے تاہم یہ ضرور کہا جا رہا ہے کہ بہار میں بی جے پی کا جب چیف منسٹر بنے گا تو بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہوسکتی ہیں اور بہار کے حالات بھی اترپردیش کے حالات کی طرح ہوسکتے ہیں ۔ بی جے پی کے متنازعہ اقدامات پر نتیش کمار بھی رکاوٹ نہیں لگاپائیں گے کیونکہ بی جے پی کو ایک بار اقتدار مل جائے پھر اسے نتیش کمار کی بھی ضرورت باقی نہیں رہ جائے گی ۔ وہ اپنے ارکان اسمبلی اور چراغ پاسوان کے بل پر ریاست میں حکومت چلا سکتی ہے اور بی جے پی بہت پہلے سے اس کا انتظار کر رہی تھی ۔
بہار میں بی جے پی کے ہاتھ میں عنان اقتدار آنے کے بعد یہ طئے ہے کہ سیاسی طور پر کچھ تبدیلیاں بھی ہوسکتی ہیں اور یہ تبدیلیاں کیا کچھ ہوسکتی ہیں یہ ابھی کہا نہیں جاسکتا ۔ کہا جا رہا ہے کہ تبدیلیوں کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ نتیش کمار کے فرزند نشانت کمار اپنی پارٹی اور عوام پر کتنی سیاسی گرفت بنا پاتے ہیں۔ وہ عوامی حلقوں میں کیا امیج بنا پائیں گے یہ ابھی نہیں کہا جاسکتا ۔ تاہم اگر وہ اپنی پارٹی پر اپنے والد کی طرح گرفت بنانے میں کامیاب ہوجائیں اور بہار کے عوام کی خیرسگالی جیت پائیں تو پھر ان کا سیاسی کیرئیر بھی اپنے والد کی طرح طویل ہوسکتا ہے ۔ آئندہ چند ہفتوں میں ریاست میں زبردست تبدیلیاں ممکن ہوسکتی ہیں۔