ہے جسم و روح کا اک امتزاج یہ ہستی
دوا کے ساتھ دعائوں سے کام لینا ہے
بہار میں دو دہوں سے زائد عرصہ کے بعد چیف منسٹر کی تبدیلی عمل میں آنے والی ہے ۔ نتیش کمار یہ عہدہ چھوڑ رہے ہیں اور بی جے پی کے کسی لیڈر کو یہ عہدہ دیا جائے گا اور امید کی جا رہی ہے کہ بی جے پی کے کسی لیڈر کو جلد ہی چیف منسٹر بہار کی حیثیت سے حلف دلایا جائے گا ۔ چیف منسٹر کے عہدہ سے استعفی پیش کرنا اور راجیہ سبھا کیلئے انتخاب لڑنا یہ نتیش کمار کا شخصی فیصلہ ہے اور وہ اپنے لئے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔ اسی طرح ان کے فرزند نشانت کمار کو ڈپٹی چیف منسٹر کا عہدہ دیا جائے گا جو ریاست کی سیاست میں پہلی بار سرگرم ہونے جا رہے ہیں۔ یہ بھی پارٹی اور برسر اقتدار اتحاد کا ذاتی فیصلہ ہے جس میں وہ آزاد ہیں۔ تاہم اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب نتیش کمار کو اسمبلی انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد بمشکل تین ماہ میں چیف منسٹر کا عہدہ چھوڑنا ہی تھا تو انہیں چیف منسر کا چہرہ بناکر پیش ہی کیوں کیا گیا تھا اور ان کے چہرے پر این ڈی اے نے انتخاب کیوں لڑا تھا ۔ بہار کے عوام نے اسمبلی انتخابات میں جو رائے دہی کی تھی وہ انہوں نے چیف منسٹر کی حیثیت سے نتیش کمار کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کیا تھا اور نتیش کمار کے چہرے پر ہی بی جے پی امیدواروں نے انتخاب لڑا تھا ۔ نتائج کے اعلان اور نئی حکومت کی نتیش کمار کی ہی قیادت میں تشکیل کے تین مہینوں ہی میں چیف منسٹر کی حیثیت سے نتیش کمار کا استعفی اور راجیہ سبھا کیلئے انتخاب کوئی اچانک پیش آنے والی تبدیلی یا معمولی واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک طئے شدہ منصوبے اور ایجنڈہ کا حصہ ہے اور پہلے ہی سے طئے کرلیا گیا تھا کہ کب اور کیا کرنا ہے ۔ اس طرح این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں اور خاص طور پر نتیش کمار اور بی جے پی نے بہار کے عوام کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور انہوں نے نتیش کمار پر جو اعتماد کیا تھا اس کو مجروح کیا گیا ہے ۔ یہ درست ہے کہ بہار میں این ڈی اے کو اقتدار حاصل ہے اور تمام جماعتیں اس میں شریک ہیں تاہم یہ بھی اٹل حقیقت ہے کہ یہ کامیابی زیادہ تر نتیش کمار کے چہرہ کی وجہ سے حاصل ہوئی تھی ۔ اپوزیشن جماعتیںلگاتار یہ کہہ رہی تھیں کہ نتیش کمار کو بی جے پی کی جانب سے حاشیہ پر کردیا جائیگا اور اب ایسا ہی ہوا ہے ۔
حالانکہ نتیش کمار کی چیف منسٹر کے عہدہ سے علیحدگی اور راجیہ سبھا کیلئے ان کا انتخاب ایسا لگتا ہے کہ خوشگوار انداز میں کیا جا رہا ہے تاہم یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نتیش کمار کو پہلے ہی سے یہ بتادیا گیا تھا کہ انتخاب ان کے چہرے پر لڑنا ہے اور پھر انہیں بی جے پی کے چیف منسٹر کیلئے راہ ہموار کرنی ہوگی ۔ اسی طرح سے کیا بھی جا رہا ہے ۔ نتیش کمار کا ایک طرح سے سیاسی اغواء کرلیا گیا ہے اور ان سے وہ کچھ کروایا جا رہا ہے جو بی جے پی چاہتی ہے ۔ بی جے پی نے بھی بہار کے عوام کو نتیش کمار کی قیادت میں انتخاب لڑنے کا دکھاوا کرتے ہوئے دھوکہ دیا ہے ۔ اسی طرح نتیش کمار بھی اس حقیقت سے واقف تھے کہ انہیں چند دنوں کے اندر اندر چیف منسٹر کی گدی چھوڑنی ہوگی اس کے باوجود انہوں نے بھی بہار کے عوام کے ساتھ دھوکہ کرتے ہوئے اس حقیقت کو چھپائے رکھا اور اب اچانک ہی راجیہ سبھا کیلئے انتخاب لڑنے کا اشارہ دیتے ہوئے ساری ریاست بہار میں سیاسی سنسنی پیدا کردی ہے ۔ بہار کے عوام سیاسی اعتبار سے زیادہ حساس بھی ہوتے ہیں اور انہیں ووٹنگ کے ذریعہ دئے گئے اپنے فیصلے پر شائدا ب پچھتاوا بھی ہونے لگا ہے کیونکہ انہوں نے کسی بی جے پی لیڈر کو چیف منسٹر بنانے کیلئے اپنا ووٹ نہیں دیا تھا بلکہ وہ چیف منسٹر کی حیثیت سے نتیش کمار کو ہی برقرار رکھنا چاہتے تھے اسی لئے انہوں نے این ڈی اے اتحادی جماعتوں کے امیداوروں کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا تھا اور اب اچانک ہی عوامی فیصلے کو ہی بدلا جار ہا ہے ۔
جس طرح سے بی جے پی نے ملک کی کئی ریاستوں میں پچھلے دروازے سے اقتدار حاصل کیا اور پھر اپنے اقتدار کو مستحکم و مضبوط کیا تھا اسی طرح بہار میں بھی بی جے پی نے پچھلے دروازے سے عوام کو دھوکہ میں رکھتے ہوئے اقتدار حاصل کیا ہے ۔ بی جے پی نے کبھی بھی تنہا اپنے بل پر بہار میں اقتدار حاصل نہیں کیا ہے اور وہ ہمیشہ ہی نتیش کمار کے سہارے کامیاب ہوتی رہی ہے ۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا اور اب بی جے پی نے اقتدار کو پچھلے در وازے سے حاصل کرنے کیا فیصلہ کیا ہے ۔ بہار کے عوام اس فیصلے کو کس حد تک قبول کرپاتے ہیں فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہی ہوگا کیونکہ ابھی نئے چیف منسٹر کا انتخاب باقی ہے ۔