اوپر اوپر پھول کھلے ہیں بھیتر بھیتر آگ
بھاگ مسافر میرے وطن سے میرے چمن سے بھاگ
ملک کی ہندی ریاست بہار میں سیاسی ماحول گرم ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ سیاسی سرگرمیوں میں لگاتاراضافہ ہو رہا ہے ۔ سب سے پہلے تو سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابات کی تیاریوں کا آغاز کردیا گیا ہے اور اس کے نتیجہ میں ماحول متحرک ہوگیا ہے اور اس میں گرمی پیدا ہوگئی ہے ۔ پھر الیکشن کمیشن کی جانب سے فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی کا جو عمل شروع کیا گیا ہے اس نے بھی ماحول کو مزید گرم کردیا ہے ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ریاست میں تقیربا ساٹھ لاکھ افراد کے نام فہرست سے حذف کئے جارہے ہیں کیونکہ یہ لوگ یا تو انتقال کرگئے ہیں۔ یا دوسری ریاستوں کو منتقل ہوگئے ہیں یا پھر وہ بہار میں دستیاب نہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن کا ادعا ہے کہ اس نے گھروں پر پہونچ کر بھی تنقیح کرنے کی کوشش کی ہے تاہم یہ لوگ دستیاب نہیں ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے نام حذف کئے جا رہے ہیں۔ اس مسئلہ پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مسلسل احتجاج کیا جا رہا ہے ۔ الیکشن کمیشن پر مخصوص طبقات کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کرنے کے الزام عائد کئے جا رہے ہیں۔ غریبوں کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا جا رہا ہے ۔ اس ساری صورتحال سے قطع نظر سیاسی الزامات اور جوابی الزامات اور دعووں کا سلسلہ بھی طوالت اختیار کرتا چلا جا رہا ہے ۔ گذشتہ دنوں مرکزی وزیر و لوک جن شکتی پارٹی لیڈر چراغ پاسوان نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کو بم سے اڑا نے کی کی سازش تیار کی جا رہی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ یہ سازش رچنے والے کون ہیں۔ اب سابق چیف منسٹر اور آر جے ڈی لیڈر رابڑ ی دیوی نے الزام عائد کیا کہ ان کے فرزند و سابق ڈپٹی چیف منسٹر تیجسوی یادو کو قتل کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ رابڑی دیوی نے کہا کہ بہار میں ویسے بھی کئی افراد قتل کئے جا رہے ہیں اور ایک اور قتل کردیا جائے تو ایسا کرنے والوں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جے ڈی یو اور بی جے پی کی جانب سے یہ کوششیں ہو رہی ہیں اور پہلے بھی تیجسوی یادو پر دو تا چار بار حملے کرنے کی کوششیں ہوئی تھیں اور یہ ساری کوششیں ناکام ہوگئی ہیں ۔
ریاست کے دو نوجوان قائدین کو قتل کرنے کی کوششوں کے الزامات سنگین ہی کہے جاسکتے ہیں۔ یہ کوئی عام بات نہیں ہیں ۔ خاص طور پر انتخابات کے موسم میں الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ چلتا ہے ۔ ملک کی کئی ریاستوں میں ایسا ہوتا ہے ۔ تاہم دو ذمہ دار ‘ اہم اور نوجوان قائدین کو ختم کرنے کے الزامات معمول کی بات نہیں ہوسکتے ۔ اس کے علاوہ جن سوراج پارٹی کے لیڈر پرشانت کشور بھی سیاسی دنگل میں کود پڑے ہیں اور وہ بھی تمام دوسری جماعتوں کے خلاف الزامات عائد کرنے سے گریز نہیں کر رہے ہیں۔ پرسکون موڈ کیلئے شہرت رکھنے والے پرشانت کشور اب سیاسی ماحول کی گرمی کا شکار ہونے لگے ہیں اور وہ اپنے کارکنوں یا دوسروں پر ناراضگی اور برہمی ظاہر کرنے سے گریز نہیں کر رہے ہیں ۔ بحیثیت مجموعی یہ کہا جاسکتا ہے کہ بہار کا سیاسی ماحول گرم ہوچلا ہے ۔ یہاں ہر جماعت اپنے اپنے انتخابی فائدہ کو یقینی بنانے کیلئے کوشاں ہے ۔ اپنے طور پر تیاریوں کا بھی آعاز تمام جماعتوں کی جانب سے کردیا گیا ہے ۔ انتخابات کیلئے ابھی دو تین مہینے کا وقت ہے ۔ اس کے باوجود سیاسی جماعتیں بہار کے انتخابات کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ابھی سے متحرک ہوچکی ہیں اور وہ ہر وہ کوشش کرنے لگی ہیں جو ان کے خیال میں ان کے انتخابی اور سیاسی فائدہ کو یقینی بناسکتی ہے ۔ فی الحال سب سے زیادہ اہمیت کا حامل اور موضوع بحث مسئلہ ووٹر لسٹ کا ہی ہے اور آئندہ چند دنوں میں قطعی فہرست رائے دہندگان تیار کرلی جائے گی ۔
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ہر ریاست کے انتخابات کی اپنی اہمیت مسلمہ ہوتی ہے ۔ تاہم جہاں تک بہار کا سوال ہے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہوگئی ہے ۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ بہار کے انتخابی نتائج کا ملک کی سیاست پر اور شائد مرکزی حکومت کے استحکام پر بھی اثر ہوسکتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ تمام جماعتیں اپنے اپنے انداز میں متحرک ہوگئی ہیں۔ بہار کے عوام پر اپنے سیاسی شعور اور بصیرت کے اظہار کی ذمہ داری عائد ہوگئی ہے اور جو ماحول فی الحال پیدا ہوا ہے وہ مزید شدت اختیار کریگا ۔ ایسے میں بہار کے عوام کو سمجھ بوجھ اور فہم و فراست کا استعمال کرتے ہوئے اپنے اور ریاست کے مستقبل کے تعلق سے فیصلہ کرنا چاہئے ۔