بہن کی شادی میں شرکت کیلئے قید عمر خالد کو 23ڈسمبر سے ایک ہفتہ کی ضمانت

   


نئی دہلی :دہلی فساد 2020 کے کیس میں ملزم عمر خالد کو تقریباً 27 ماہ بعد جیل سے باہر نکلنے کی اجازت مل گئی ہے۔ حالانکہ یہ اجازت محض 7 دنوں کے لیے ملی ہے اور وہ بھی اس لیے کیونکہ ان کی بہن کی شادی ہونے والی ہے۔ دہلی کی ایک عدالت نے پیر کے روز عمر خالد کو 23 دسمبر سے 30 دسمبر تک کیلئے ضمانت پر رِہا کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔جے این یو کے سابق طالب علم عمر خالد نے اپنی بہن کی شادی میں شریک ہونے کے لیے عدالت سے دو ہفتہ کی ضمانت مانگی تھی، لیکن ایڈیشنل سیشن جج پلستیہ پرماچل کے کڑکڑڈوما کورٹ نے محض ایک ہفتہ کی ضمانت منظور کی۔ یعنی عمر خالد کو 30 دسمبر کو ایک بار پھر جیل میں قید ہونے کے لیے حاضر ہونا ہوگا اور نیا سال ایک بار پھر وہ قید میں ہی منائیں گے۔ عمر خالد کی جانب سے داخل کی گئی ضمانت کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے 7 دسمبر کو فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ آج اس سلسلے میں فیصلہ سنایا گیا۔ واضح رہے کہ عمر خالد دہلی فسادات سے متعلق کئی معاملوں میں ملزم بنائے گئے ہیں۔ فروری 2020 میں دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں تشدد بھڑک گیا تھا۔ یہ تشدد سی اے اے اوراین آر سی کی مخالفت میں جاری مظاہروں کے دوران ہوا تھا۔ اس تشدد نے فرقہ وارانہ فسادات کی شکل اختیار کر لی تھی۔
فسادات میں مجموعی طور پر 53 لوگوں کی موت ہوئی تھی اور 700 سے زائد لوگ زخمی ہوئے تھے۔ عمر خالد کو ستمبر 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا اور تب سے وہ جیل میں ہیں۔