وی ہنمنت راؤ کا مطالبہ ، رائے دہی میں اضافہ سازش کا حصہ
حیدرآباد: سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے گریٹر بلدی انتخابات کے بیالٹ پیپرس کی خانگی پرنٹنگ پریس میں طباعت کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بیالٹ پیپرس کو گورنمنٹ پرنٹنگ پریس میں چھپانے کے بجائے الیکشن کمیشن نے خانگی پرنٹنگ پریس کو ذمہ داری دی جس کے پس پردہ سازش کارفرما ہے۔ انہوں نے اعلیٰ سطحی تحقیقات کے ذریعہ سازش کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ بیالٹ پیپرس کا تحفظ ضروری ہے کیونکہ انتخابات میں کوئی بھی بیالٹ پیپر کا غلط استعمال کرسکتا ہے ۔ ایسے میں خانگی پرنٹنگ پریس میں شائع کرنا عہدیداروں کی غفلت کا واضح ثبوت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خانگی پریس میں پرنٹ کرانے کے بعد رائے دہی کے موقع پر بیالٹ پیپرس کا غلط استعمال بآسانی کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے حیدرآباد میں رائے دہی کے فیصد میں اچانک اضافہ پر شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خانگی پریس کو پرنٹنگ کا کام الاٹ کرنے کی جانچ کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے کسی بھی بلدی ڈیویژن میں دن بھر رائے دہندوں کی کمی تھی لیکن وقت گزرنے کے بعد الیکشن کمیشن نے رات دیر گئے پولنگ فیصد میں اضافہ کا اعلان کیا ۔ ہنمنت راؤ نے شبہ ظاہر کیا کہ برسر اقتدار ٹی آر ایس کو فائدہ پہنچانے کیلئے عہدیداروں کے ذریعہ بوگس رائے دہی کرائی گی۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر حکومت کے ایجنٹ کی حیثیت سے کام کرنے کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابی بے قاعدگیوں اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر کارروائی میں ناکام ثابت ہوا ہے ۔ ہنمنت راؤ نے کہاکہ ٹی آر ایس نے بوگس رائے دہی کے ذریعہ کامیابی کا منصوبہ تیار کیا تھا ۔ آزادانہ اور منصفانہ رائے دہی کی صورت میں کانگریس پارٹی کا بہتر مظاہرہ یقینی ہے۔