بیالٹ پیپر کے استعمال میں غلطیوں سے امیدواروں کا نقصان

   

انتخابی عملہ نے طریقہ کار سے واقف نہیں کرایا، کئی مقامات پر غلط مہر لگانے کے واقعات
حیدرآباد: گریٹر بلدی انتخابات کی رائے دہی میں 18 برسوں کے بعد بیالٹ پیپر کا استعمال کیا گیا اور اس کے استعمال کے بارے میں شعور بیداری کی کمی کے باعث کئی علاقوں میں رائے دہندوں نے غلط انداز میں مہر لگائی جس کے نتیجہ میں زیادہ بیالٹ پیپرس کے مسترد ہونے کا اندیشہ بڑھ چکا ہے ۔ بیالٹ پیپر کے استعمال کے سلسلہ میں الیکشن کمیشن ، سیاسی جماعتوں اور این جی اوز کی جانب سے عوام کو جانکاری نہیں دی گئی۔ اس کے علاوہ پولنگ اسٹیشن پر موجود عملہ نے ووٹ کے استعمال کا طریقے بتانے کے بجائے ووٹ ڈالنے کے کیبن میں سیاہی اور مہر سے منسلک لکڑی کو رکھ دیا تھا ۔صحیح طریقہ کار کے مطابق رائے دہندوں کو امیدوار اور اس کے انتخابی نشان کے درمیانی حصہ میں مہر لگانا تھا لیکن اکثر و بیشتر خواتین ، ضعیف العمر افراد اور ناخواندہ افراد کو مہر لگانے کے بجائے مکمل لکڑی کو سیاہی لگاکر بیالٹ پیپر پر نشان لگاتے ہوئے دیکھا گیا جس کے نتیجہ میں لکڑی کا نشان کئی امیدواروں تک پھیل گیا اور ایسی صورت میں پرچہ نامزدگی کو مسترد کردیا جاتا ہے۔ بعض مقامات پر رائے دہندوں نے مہر لگانے کے بجائے اپنے انگوٹھے کا نشانہ لگایا۔ پرانے شہر کے بعض پولنگ بوتھس پر انتخابی عملہ کو وقفہ وقفہ سے مہر لگانے کی لکڑی کو تبدیل کرنا پڑا کیونکہ ساری لکڑی سیاہی میں ڈوب چکی تھی اور دوسرے رائے دہندوں کو دشواری پیش آرہی تھی۔ چندایک پولنگ بوتھس میں بیالٹ پیپر حوالے کرتے ہوئے انتخابی عملہ مہر لگانے کے طریقہ کار کو سمجھا رہا تھا اور مہر لگانے کی لکڑی حوالے کی جارہی تھی جسے مہر لگانے کے بعد واپس کرنا تھا ۔ ایسے مقامات پر بہتر اور صحیح انداز میں بیالٹ پیپر کا استعمال ہوا ہے۔ ضعیف افراد اور خواتین دراصل بیالٹ پیپر کے استعمال کے طریقہ کار کو بھول چکے ہیں اور ان کے لئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین آسان طریقہ ہے کیونکہ اس میں اپنی پسند کے امیدوار کے آگے موجود بٹن کو دبانا ہے۔ سوشیل میڈیا میں بعض اہم شخصیتوں نے ویڈیوز وائرل کئے جس میں انہوں نے الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ رائے دہندوں کو بیالٹ پیپر کے استعمال کے طریقہ کار سے واقف کرائیں۔ ویڈیوز میں بتایا گیا ہے کہ کئی پولنگ اسٹیشنوں میں ناواقف رائے دہندے غلط انداز میں مہر لگا رہے ہیں۔