بیجنگ ۔ 15 ستمبر (ایجنسیز) چین نے منگل کے روز امریکہ پر زور دیا ہیکہ وہ خلا میں ’’جنگ کی تیاری بند کر دے‘‘۔ امریکی خلائی فورس نے پہلی بار مدار میں ہتھیاروں کی تنصیب کی تصدیق کی جس کے بعد یہ مطالبہ سامنے آیا ہے۔بیجنگ اور واشنگٹن اہم جغرافیائی سیاسی حریف ہیں اور طویل عرصے سے خلا میں اپنے مفادات اور تزویراتی موجودگی میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔امریکی خلائی فورس نے پیر کو کہا کہ اس نے ’’مدار میں مخالف جارحانہ کارروائیوں کے خلاف دفاع‘‘ کی صلاحیت کے حامل ہتھیار’’ نصب کیے تھے تاہم فورس نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں‘‘۔ بیرونی خلا کو مسلح کرنے، اسے میدانِ جنگ بنانے اور وہاں ہتھیاروں کی دوڑ شروع کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے چین کی وزارتِ خارجہ نے اس اقدام کی مخالفت کی۔ وزارت کے ترجمان گو جیاکون نے ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ ہم امریکی فریق پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ اور بیرونی خلا میں جنگ کی تیاری کرنا بند کرے۔ امریکی خلائی فورس نے اپنے اعلان میں خاص طور پر چین کو خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا، بیجنگ اپنی عسکری جدید کاری کی حکمت عملی کے تحت خلائی اور فوجی خلائی کارروائی کی صلاحیتوں کی تیاری اور استعمال کر رہا ہے۔ فورس نے ایک اور جغرافیائی سیاسی حریف روس کا بھی ذکر کیا امریکی فورس کے مطابق روس کو یقین ہیکہ مستقبل کے تنازعات میں خلائی بالادستی ایک فیصلہ کن عنصر ثابت ہو گی۔خلا کی فوج کاری کا عمل اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ خود خلائی دوڑ؛ جیسے ہی سوویت یونین نے 1957 میں دنیا کا اولین مصنوعی سیارہ سپوتنک مدار میں بھیجا تو واشنگٹن اور ماسکو نے ایسے خلائی جہازوں کو مسلح اور ساتھ ہی انہیں تباہ کرنے کے طریقوں پر غور کرنا شروع کر دیا۔
ایک وقت میں سب سے بڑی تشویش خلا میں نیوکلیئر ہتھیاروں کے حوالے سے تھی لیکن سپر پاورز اور دیگر ممالک نے 1967 میں ‘آؤٹر اسپیس ٹریٹی’ (بیرونی خلا سے متعلق معاہدے) پر دستخط کیے جس کے تحت مدار میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں پر پابندی عائد کر دی گئی۔اس کے بعد سے امریکہ، چین، روس اور بھارت نے اس معاہدے کی حدود سے باہر رہ کر خلا میں لڑائی کے طریقے تلاش کیے ہیں جن میں حریفوں کے سیاروں (سیٹلائٹس) کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے؛ یہ سیارے عسکری مواصلات، نگرانی اور نیویگیشن کیلئے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔