بیمار کرنا اور شفاء دینا دونوں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ

   

Ferty9 Clinic

فتنہ فیاضیت کو ختم کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ۔ علمائے کرام و دیگر کا خطاب

کاماریڈی :فتنہ فیاضیت کی سنگینی کو سمجھنا اور اس کے باطل افکار وخیالات سے امت مسلمہ کو آگاہ کرنا انتہائی ضروری ہے، ان خیالات کا اظہار مولانا حافظ وسیم قادری خطیب مدینہ مسجد نے مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ کاماریڈی کی جانب سے منعقدہ کل جماعتی اجلاس بضمن ’’ ‘فیاضیت کے فتنہ کا خاتمہ کیسے ممکن ہو‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ علماء کرام اور محققین نے اس کے ایڈیو کلپ سن کر جو 8 جرائم نکالے ہیں، وہ سب کے سب اسلام کے خلاف ہیں، اس کے اور اس کے متبعین کے مرتد ہونے میں کسی بھی جماعت کا کوئی اختلاف نہیں ہے، اس فتنہ کی سنگینی سے واقف کروانے کے لئے مختلف اجتماعات منعقد کئے جائیں، بالخصوص خواتین میں اجتماعات از حد ضروری ہے، اس کے لئے ہر ممکنہ کوشش کے لئے مستعد رہیں گے، مفتی عمران خان قاسمی نے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی ہی بیمار کرتے ہیں اور اللہ ہی شفاء دیتے ہیں، علاج کرانا سنت نبوی ہے، نیز کہا کہ علاج کرانا، توکل اور یقین کے خلاف نہیں ہے، اسلامی تعلیمات گواہ ہے کہ جنگ میں زخمی صحابہ کا علاج کروایا جاتا تھا، بیماری اللہ کی طرف سے گنہگاروں کے لئے کفارۂ سیات ہے، اور نیکوکاروں کے لئے رفع درجات کا ذریعہ ہے، آج اسلامی نظریہ کے خلاف ذہن بنایا جا رہا ہے۔جب جب بھی اس قسم کے گستاخ اپنے باطل عقائد و افکار کے ساتھ سر ابھارا تو اسوقت کے مجاہدین نے اسکا مقابلہ کیا، موجودہ زمانہ میں گستاخ مرتد کافر فیاض بن یاسین علاج کے نام پر لوگوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈال رہا ہے، توہین انبیاء کا مرتکب ہوا ہے، اپنی اطاعت کا نام لے کر نبوت کا دعویٰ کردیا ہے، عدم اطاعت کو خارج اسلام کا حکم لگایا ہے، اپنے آپ کو شافع محشر گردان رہا ہے، ہماری ریاست متحدہ آندھراپردیش کے بیشتر علاقوں میں یہ فتنہ سرگرم ہے، چونکہ ان کی ساری محنت خفیہ ہوتی ہے اس لئے متاثرہ خاندان تک رسائی میں کافی مشکلات پیش آرہی ہیں، کئی خاندان اسکی زد میں آ چکے ہیں، نیز تمام مکتب فکر کے احباب کو مدعو کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ عقیدہ تخت وتاج ختمِ نبوت کے لئے ہر مسلک کے علماء نے قربانیاں دی ہیں، لہذا ضرورت ہے کہ دینی مذاکرے ہوں، اپنے اپنے علماء کی جانب سے لکھی گئی کتابوں کا مطالعہ اپنے گھروں میں کریں، محمد عبدالحمید جماعت اسلامی کاماریڈی نے کہا کہ اس کا شکار اکثر بیمار اور بے روزگار ہورہے ہیں، لہذا ہم کو چاہئے کہ صحت سے متعلق شعور بیداری کریں، ماہر ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کریں، ایجوکیٹرز میں بات چلائیں، اور ان کی خدمات حاصل کریں، انسان کا صحت مند ہونا ضروری ہے، کیونکہ صحت بہت بڑی نعمت ہے۔سید انور احمد معتمد مدینہ مسجد نے متحدہ جدوجہد کے ساتھ فتنہ کے خاتمے کا عزم کا اظہار کیا۔ حافظ محمد موسیٰ نے کہا کہ اس فتنہ کے شکار احباب کے سلسلہ میں خصوصی فکر کیجائے، ختم نبوت کے عنوان پر کام کرنا سعادت کی بات ہے، یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس کی سعادت اللہ اپنے خاص بندوں کو ہی عطا فرماتا ہے، حقیقت یہ ہیکہ اس کاز میں ہمارا کچھ حصہ اور وقت لگنا چاہئے ۔محمد ذاکر حسین نے کہا کہ اللہ نے ہمیں بغیر خواہش کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بنایا، یہ ہمارے لئے سب سے بڑی سعادت کی بات ہے، ہر اٹھنے والے فتنوں کا مقابلہ کرنے لئے تیار رہیں۔الحاج مقصود ایڈوکیٹ نے کہا کہ موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے شوق اور جذبہ عشق نبی میں ڈوب کر اس کی سرکوبی کی فکر کی ضرورت ہے، یہ تب ہی ممکن ہے جب ہماری صفوں میں اتحاد ہو۔ حافظ محمد فہیم الدین منیری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پریشان حال افراد لاعلمی کی وجہ سے فتنہ فیاضیت کا شکار ہوئے ہیں، لہذا ان کو چاہئے کہ دلسوزی کے ساتھ اس کو سمجھانے کی کوشش کریں۔ مولانا منظور مظاہری نے افتتاحی کلمات سے اجلاس میں شرکت کرنے والے تمام شرکاء کا استقبال کیا۔ اجلاس میں مولانا مفتی ریحان قاسمی، صوفی عبد الرحمن حلیمی، حافظ ہاشمی، مولانا نظر الحق ناظر مجلس، حافظ عبدالواجد علی حلیمی، مولانا شیخ حسین اشرفی ، حافظ محمد یوسف حلیمی انور، محمد شرف الدین منیری، محمد ثمیر کے علاوہ دیگر نے مہمانوں کا استقبال کیا۔