بینک کھاتوں سے رقم نکال لینے کی مہم کے بعد اب غیر مقیم ہندوستانیوں کا اقدام

   

بیرون زر مبادلہ ہندوستان روانہ نہ کر کے صرف آن لائن خریدی ، این آر سی کے خلاف مہم میں شدت
حیدرآباد۔2جنوری (سیاست نیوز) دنیا بھر میں رہنے والے غیر مقیم ہندستانیوں کی جانب سے بیرون زر مبادلہ اگر ہندستان کو روانہ کرنے کا سلسلہ بند کرتے ہوئے وہ بھی آن لائن اپنے اشیاء ضروریہ آرڈر کرتے ہوئے آن لائن ادائیگی کرتے ہیں اور ہندستان میں موجود اپنے گھروں کو اشیائے ضروریہ روانہ کرتے ہیں تو ایسی صورت میں ہندستانی معیشت کو بہت بڑا دھکا پہنچ سکتا ہے۔ ملک میں قانون ترمیم شہریت اور این آر سی کے علاوہ این پی آر کے سلسلہ میں جاری احتجاج کے دوران عوام مختلف طریقے تلاش رہے ہیں تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جاسکے اور فی الحال ملک کی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے لیکن غیر مقیم ہندستانیوں کی جانب سے ہندستان میں مقیم اپنے رشتہ داروں اور دوست و احباب کے علاوہ افراد خاندان کو جو زرمبادلہ روانہ کیا جاتا ہے وہ ہندستانی معیشت کو مستحکم رکھنے میں سب سے زیادہ مددگار ثابت ہورہا ہے کیونکہ ہندستان میں ٹیکس کے بعد سیاحوں اور بیرونی زرمبادلہ سے ہی سب سے زیادہ آمدنی ہوتی ہے ۔ہندستانی شہریوں کی جانب سے بینک کھاتوں سے رقم منہاء کرنے کی مہم کے ساتھ ہی اب غیر مقیم ہندستانیوں کی جانب سے روانہ کئے جانے والے زرمبادلہ کو روکنے کی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ سال 2018 کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو دنیا بھر میں سب سے زیادہ زرمبادلہ ہندستان کو پہنچتا ہے جو کہ مجموعی اعتبار سے 79 بلین ڈالر تک پہنچ چکا تھا ۔ دنیا بھر میں رہنے والے ہندستانی شہری جو کہ کئی ممالک میں ہیں وہ اپنے ممالک کو جو رقم روانہ کرتے ہیں وہ 79بلین امریکی ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے اور ہندستا ن کو پہنچنے والی جملہ رقم میں 14 فیصد حصہ کیرالہ کو حاصل ہوتا ہے ۔ اگر غیر مقیم ہندستانی جو کہ خلیجی ممالک میں ہیں وہ بھی اپنے ملک کو زرمبادلہ کی روانگی کو موقوف کرتے ہیں تو اس کا بہت بڑا منفی اثر ہندستان کی معیشت پر ہوگا۔سوشل میڈیا کے علاوہ مختلف گروپس اور دنیا بھر کے کئی ممالک میں جہاں ہندستانی شہری روزگار حاصل کررہے ہیں ان کے درمیان اس طرح کی گفتگو کا آغاز ہوچکا ہے کہ وہ اپنے ملک کو زرمبادلہ کی روانگی کا سلسلہ ترک کردیں گے یا موقوف کردیں گے تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جاسکے کیونکہ مرکزی حکومت نے اپنی مسلم دشمن پالیسی کے تحت جو اقدامات شروع کئے ہیں انہیں بہر صورت نافذ العمل بنانے کی کوشش میں مصروف ہے اور ایسے میں عوامی سطح پر معاشی انقلاب کے ذریعہ ہی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے کیلئے مجبور کیا جاسکتا ہے۔