مرکزی حکومت کی جانب سے ملک میں لڑکیوں کی تعلیم پر خاص توجہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے ایک بڑی اسکیم بیٹی بچاؤ ۔ بیٹی پڑھاؤ شروع کی گئی تھی ۔ حکومت نے اس اسکیم کے ذریعہ خواتین کو محفوظ اور با اختیار بنانے کی سمت پیشرفت کا دعوی کیا تھا اور کہا تھا کہ اس اسکیم کے ذریعہ خواتین میں خود اعتمادی پیدا کی جاسکتی ہے ۔ حکومت نے اس کو ایک منفرد اور مثالی اسکیم قرار دیتے ہوئے تشہیر کا آغاز کیا تھا تاہم اب ایک حقیقت یہ منظر عام پر آئی ہے کہ یہ اسکیم صرف تشہیر تک ہی محدود رہی ہے اور اس کے کوئی فوائد یا اثرات سماج یا معاشرہ میںدیکھنے میں نہیںآئے ہیں۔ حکومت نے اس اسکیم کیلئے بڑی رقومات بھی مختص کی تھیں اور ہر موقع پر اس کا چرچہ بھی کیا گیا تھا ۔ ٹی وی اور اخبارات میں اس کے اشتہارات دئے گئے ۔ جب کبھی ملک میں خواتین کے ساتھ مظالم کے واقعات پیش آئے یا اجتماعی عصمت ریزی کے واقعات ہوئے اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو تنقیدوں کا نشانہ بنایا گیا ۔ ایسے مواقع پر بھی حکومت نے عملی اقدامات کرنے کی بجائے اس اسکیم کی تشہیر پر ہی اکتفاء کیا اور اس کو صرف تشہیر تک محدود کرکے رکھ دیا گیا ۔ حکومت نے اس اسکیم کیلئے جملہ 446.72 کروڑ روپئے جاری کئے تھے ۔ ایک پارلیمانی کمیٹی نے اس اسکیم کی تنقید اور جانچ کرنے کے بعد رپورٹ جاری کی ہے کہ اس اسکیم کے جملہ فنڈ کا 80 فیصد تک حصہ صرف میڈیا کی تشہیر پر خرچ کردیا گیا ۔ اس طرح حکومت نے یہ رقومات خواتین کو بچانے یا پڑھانے پر نہیں بلکہ میڈیا کو پالنے پر خرچ کئے ہیں۔ میڈیا کو کروڑہا روپئے کے اشتہارات جاری کرتے ہوئے محض تشہیر کی گئی ۔ حقیقی معنوں میں اس اسکیم کے فوائد خواتین یا لڑکیوں تک پہونچائے نہیں گئے ۔ کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ گذشتہ چھ برسوں میں ساری کی ساری توجہ صرف تشہیر پر دی گئی اور اس پر حقیقی معنوں میں عمل کرنے کے تعلق سے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا گیا ۔ لڑکیوں کی اہمیت کو فروغ دینے اور سماج میں ان کا مقام و مرتبہ بحال کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ جس مقصد سے اس اسکیم کی شروعات کی گئی تھی اسے ہی فراموش کردیا گیا ۔
کم از کم اب حکومت کو اس تعلق سے اپنی حکمت عملی پر از سر نو غور کرنا چاہئے ۔ سماج و معاشرہ میں لڑکیوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور انہیں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرنے کیلئے خاص حکمت عملی بنانی چاہئے ۔ خواتین کی تعلیم اور صحت کو فروغ دینے کے مقصد پر رقومات مختص کرنے اور اس پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس اسکیم کے فوائد کا اثر دیکھنے میں آسکے۔ حکومت کے اعلان کے مطابق اس اسکیم پر ملک کے 405 اضلاع میں عمل کیا جانا تھا تاہم کئی اضلاع میں ابھی تک اس اسکیم کو عملا شروع ہی نہیں کیا جاسکا ہے اور صرف تشہیر پر اکتفاء کیا جا رہا ہے ۔ اسکیم کیلئے جتنے فنڈز اب تک جاری کئے گئے ہیں ان سے استفادہ کی صورتحال بھی افسوسناک ہے ۔ ساری رقومات کا استعمال نہیں کیا گیا اور ریاستوں و مرکزی زیر انتظام علاقوں پر اس کا رد عمل بھی خاطر خواہ نہیں ہے ۔ تشہیری مہم وغیرہ پر جو رقومات خرچ کی گئی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت حقیقی معنوں میں لڑکیوں کی فلاح و بہبود سے زیادہ صرف تشہیر کو پیش نظر رکھے ہوئے ہے ۔ اس کے فوائد لڑإیوں تک پہونچانے میں انتظامیہ نے مستعدی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے بلکہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ تغافل سے کام لیا گیا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج بھی ملک میں لڑکیوں کی حالت کو بہتر بنانے ‘ انہیں تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنے یا پھر ان کی صحت کو بہتر بنانے کے انفرا اسٹرکچر کی حالت قابل رحم ہی ہے ۔ فنڈز کو صرف تشہیر پر خرچ کرتے ہوئے اس اسکیم کے مقاصد کو حاصل نہیں کیا جاسکتا ۔
اس اسکیم کے جو خد و خال ہیں ان کا بھی کوئی پاس و لحاظر نہیں رکھا گیا ۔ اسکیم کے تحت ہر ضلع کیلئے سالانہ 50 لاکھ روپئے کا فنڈ ہے ۔ جس میں 16ف یصد بین شعبہ جاتی مشاورت کیلئے ہے ‘ 50 فیصد اختراع اور شعور بیداری سرگرمیوں کیلئے ہے 6 فیصد نگرانی و تیاری کیلئے ہے اور 10 فیصد شعبہ جاتی کاوشوں کیلئے جبکہ 10 فیصد صحت کیلئے ہے ۔ اس کے باوجود ان تمام اہمیت کے حامل اقدامات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف تشہیر پر اکتفاء کیا گیا اور تشہیر پر ہی 80 فیصد تک رقومات خرچ کردی گئیں۔ اس قدر بھاری رقومات کے تشہیر پر خرچ سے اس اسکیم کا مقصد ہی فوت ہوتا نظر آرہا ہے ۔ حکومت کو اس کا جائزہ لینے اور ترجیحات پر نظرثانی کی ضرورت ہے ۔
