کانگریس پر حملہ کی کوشش ناقابل برداشت، نارائن پیٹ میں اندراماں ہاؤزنگ اسکیم کا افتتاح، چیف منسٹر ریونت ریڈی کا جلسہ عام سے خطاب
حیدرآباد 21 فبروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے نارائن پیٹ ضلع میں حکومت کی اندراماں ہاؤزنگ اسکیم کے تحت 72045 منظورہ مکانات کے تعمیری کاموں کا سنگ بنیاد رکھا۔ اندراماں ہاؤزنگ اسکیم کے تحت بے گھر خاندانوں کو مکانات کی فراہمی کے مقصد سے ہر خاندان کو 5 لاکھ روپئے کی امداد فراہم کی جائیگی۔ نارائن پیٹ میں اندراماں ہاؤزنگ اسکیم کے افتتاح کے بعد جلسہ سے خطاب میں ریونت ریڈی نے گزشتہ 10 برسوں کی حکمرانی پر کے سی آر اور کشن ریڈی کو کھلے مباحث کا چیلنج کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ متحدہ محبوب نگر ضلع کو سابق حکومت نے نظرانداز کردیا جبکہ سیاسی فائدہ کیلئے ضلع کے عوام سے کئی وعدے کئے گئے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ گزشتہ 10 برسوں میں دیہی علاقوں کے غریب خاندانوں کو مکانات الاٹ نہیں کئے گئے۔ کانگریس کی عوامی حکومت نے ہر اسمبلی حلقہ میں 3500 اندراماں مکانات کی منظوری دی ہے۔ اُنھوں نے پالمور رنگاریڈی پراجکٹ کی عدم تکمیل پر کے سی آر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ گزشتہ 10 برسوں میں اگر پراجکٹ مکمل کیا جاتا تو متحدہ ضلع میں پینے کے پانی اور آبپاشی کے مسائل ختم ہوجاتے۔ محبوب نگر کے عوام نے کے سی آر کو لوک سبھا کیلئے منتخب کیا لیکن اُنھوں نے پارلیمنٹ میں ایک مرتبہ بھی محبوب نگر کیلئے آواز نہیں اُٹھائی۔ علیحدہ ریاست کے قیام اور تشکیل حکومت کے باوجود بی آر ایس نے محبوب نگر سے انصاف نہیں کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ سابق میں بعض ارکان پارلیمنٹ نے محبوب نگر کے نام پر سیاست کی لیکن عملی طور پر ضلع کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ متحدہ محبوب نگر ضلع میں بھیما، نیٹم پاڈو، کوئل ساگر، سنگم بنڈم اور کلواکرتی آبپاشی پراجکٹس گزشتہ 10 برسوں میں نظرانداز کئے گئے۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر پالمور رنگاریڈی پراجکٹ مکمل کرلیا جاتا تو چندرا بابو نائیڈو سے تلنگانہ کا کوئی تنازعہ باقی نہ رہتا اور دریائے کرشنا کے پانی میں تلنگانہ کو مناسب حصہ داری ملتی ۔ وائی ایس آر کانگریس حکومت نے پوتی ریڈی پاڈو پراجکٹ کے ذریعہ دریائے کرشنا کے پانی کا سرقہ کیا اور رائلسیما منتقل کیا گیا۔ چیف منسٹر نے کہاکہ بعض قائدین عوامی حکومت کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ کے سی آر 10 برسوں تک چیف منسٹر رہے۔ اُنھوں نے کہاکہ گزشتہ 10 برسوں کی حکمرانی اور کانگریس کی 12 ماہ کی حکمرانی پر وہ کے سی آر اور کشن ریڈی کو کھلے مباحث کا چیلنج کرتے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ کانگریس نے ایک سال میں بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت سے زیادہ ترقیاتی اور فلاحی کام انجام دیئے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہاکہ محبوب نگر کو آبپاشی پراجکٹس اور صنعتوں سے محروم رکھنے کی سازش کی جارہی ہے۔ اُنھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپوزیشن کے بہکاوے میں نہ آئیں اور حکومت اراضی سے محروم خاندانوں کی ہرممکن مدد کریگی۔ چیف منسٹر نے کہاکہ 70 سال بعد محبوب نگر ضلع سے تعلق رکھنے والے شخص کو چیف منسٹر عہدہ پر فائز ہونے کا شرف ملا ہے۔ میں محبوب نگر کے باشندہ کی حیثیت سے ضلع کی ترقی کیلئے درکار فنڈس کی اجرائی کیلئے تیار ہوں۔ اُنھوں نے کہاکہ سرکاری دواخانوں و میڈیکل کالجس میں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کے علاوہ ڈاکٹرس کے تقررات کے ذریعہ تلنگانہ میں طبی سہولتوں کو بہتر بنایا گیا ہے۔ غریبوں کیلئے مکانات کی تعمیر سابق میں کانگریس دور حکومت میں انجام دی گئی تھی۔ 2004 ء سے 2014 ء تک 50 لاکھ مکانات کانگریس دور میں تعمیر کئے گئے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ محبوب نگر ضلع کی پسماندگی کیلئے کے سی آر اور ہریش راؤ ذمہ دار ہیں۔ 12 سال کی مودی حکومت، 10 سال کی بی آر ایس حکومت اور کانگریس کی 12 ماہ کی حکومت کی کارکردگی پر مَیں کے سی آر، بنڈی سنجے و کشن ریڈی کو کھلے مباحث کا چیلنج کرتا ہوں۔ اُنھوں نے کہاکہ کے سی آر کو اگر کسی پر تنقید کرنا ہو تو وہ پہلے اپنے بیٹے، بھانجے اور افراد خاندان کو نشانہ بنائیں۔ اگر کانگریس پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی تو کارکن خاموش نہیں رہیں گے۔ اُنھوں نے بی آر ایس کو چیلنج کیاکہ جن مواضعات میں اندراماں مکانات الاٹ ہوئے وہاں انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے دکھائیں۔ ملک میں پہلی مرتبہ طبقاتی سروے کے ذریعہ پسماندہ طبقات کی حقیقی آبادی کا تعین کیا گیا ۔ اِس موقع پر ریاستی وزراء پی سرینواس ریڈی، جوپلی کرشنا راؤ، دامودھر راج نرسمہا، سیتکا اور رکن پارلیمنٹ ڈی کے ارونا موجود تھیں۔ 1