بی آر ایس ارکان کی شمولیت، ریونت ریڈی کی کامیابی حکمت عملی

   

تلگودیشم کی طرف جھکاؤ کو روک دیا، گریٹر حیدرآباد کے مزید ارکان کانگریس سے ربط میں
حیدرآباد 16 جولائی (سیاست نیوز) چیف منسٹر آندھراپردیش این چندرابابو نائیڈو کے دورۂ حیدرآباد اور چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی سے ملاقات کے بعد بی آر ایس ارکان اسمبلی کی کانگریس میں شمولیت میں تیزی پیدا ہوئی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چندرابابو نائیڈو نے جیسے ہی تلنگانہ میں تلگودیشم کے احیاء کا اعلان کیا اور اپنے سابق ساتھیوں سے ربط قائم کرنے کی کوشش کی ایسے میں چیف منسٹر ریونت ریڈی نے فوری چوکسی اختیار کرتے ہوئے ارکان اسمبلی کی شمولیت کے عمل میں تیزی پیدا کردی۔ بعض گوشوں کی جانب سے چندرابابو نائیڈو کو ریونت ریڈی کا سیاسی گرو قرار دیتے ہوئے آندھراپردیش کے مفادات کی تکمیل کا الزام عائد کیا گیا۔ ریونت ریڈی نے الزامات کو غلط ثابت کرنے کے لئے نہ صرف بی آر ایس بلکہ تلگودیشم کے سابق قائدین کو کانگریس میں شمولیت کی ترغیب دینے کے لئے اپنی ٹیم کو متحرک کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں بی آر ایس کے موجودہ ارکان اسمبلی کی اکثریت کا تعلق سابق میں تلگودیشم سے رہا ہے۔ ریونت ریڈی چونکہ خود بھی تلگودیشم سے وابستہ رہے، اُنھوں نے گریٹر حیدرآباد میں کانگریس کو مستحکم کرنے کے لئے بی آر ایس ارکان کی شمولیت کو منظوری دی ہے۔ گزشتہ 4 دنوں میں بی آر ایس کے 3 ارکان اسمبلی نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی اور توقع ہے کہ اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے قبل گریٹر حیدرآباد کے مزید ارکان اسمبلی کانگریس کا رُخ کریں گے۔ چندرابابو نائیڈو سے بی آر ایس کے ارکان اسمبلی اے گاندھی اور پرکاش گوڑ کی ملاقات کے بعد یہ قیاس آرائی کی جارہی تھی کہ دونوں تلگودیشم میں شامل ہوں گے لیکن ریونت ریڈی کی کامیاب حکمت عملی کے نتیجہ میں دونوں نے کانگریس کا رُخ کیا۔ بی آر ایس کے 10 ارکان اسمبلی کے انحراف کے بعد اسمبلی میں بی آر ایس ارکان کی تعداد گھٹ کر 28 ہوچکی ہے جبکہ کانگریس ارکان کی تعداد 75 ہوچکی ہے۔ بی آر ایس لیجسلیچر پارٹی کے کانگریس میں انضمام کے لئے مزید 15 ارکان اسمبلی کی ضرورت پڑے گی۔ کانگریس قائدین پُرامید ہیں کہ بجٹ سیشن سے قبل کانگریس لیجسلیچر پارٹی میں بی آر ایس لیجسلیچر پارٹی کا انضمام مکمل ہوجائے گا۔ 1