بی آر ایس اور بی جے پی احتجاج سے اسمبلی کارروائی متاثر

   

اسپیکر کیخلاف غیر پارلیمانی الفاظ اور خاتون ارکان اسمبلی پر پولیس کی زیادتی پر مباحث
اسپیکر نے پولیس سے رپورٹ طلب کی، اپوزیشن پر پرساد کمار کی برہمی

حیدرآباد ۔ 8 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی مانسون سیشن کا دوسرا دن بھی ہنگامہ خیز ثابت ہوا۔ بی آر ایس ارکان کونسل کی جانب سے اسپیکر جی پرساد کمار کے خلاف غیر پارلیمانی الفاظ کے استعمال اور پولیس کی جانب سے بی آر ایس کی خاتون ارکان اسمبلی کے ساتھ نازیبا سلوک جیسے امور پر برسر اقتدار اور اپوزیشن بی آر ایس کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ بی جے پی ارکان نے اراضی تنازعہ اور سکشن 22A معاملات کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کارروائی میں رکاوٹ پیدا کی۔ صبح 10 بجے جیسے ہی اسمبلی کی کارروائی شروع ہوئی سیاہ بیاچس لگائے ہوئے بی آر ایس کے ارکان نے حکومت سے معذرت خواہی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی شروع کردی۔ بی جے پی کے ارکان اراضی معاملہ کی جانچ کی مانگ کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے۔ دونوں پارٹیوں کے علیحدہ موضوعات پر احتجاج کے دوران اسپیکر پرساد کمار نے احتجاجی ارکان کو مشورہ دیا کہ وہ ایوان کی کارروائی میں حصہ لیں۔ پرساد کمار نے ایک مرحلہ پر اپوزیشن سے کہا کہ گڑبڑ سے میں ڈرنے والا نہیں ہوں۔ بی آر ایس کے ڈپٹی لیڈر ہریش راؤ نے دیگر ارکان کے ساتھ پلے کارڈس تھامے ہوئے احتجاج کیا اور خاطی پولیس عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جنہوں نے بی آر ایس کی خاتون ارکان سبیتا اندرا ریڈی، سنیتا لکشما ریڈی اور کے لکشمی کے ساتھ بدسلوکی کی ہے۔ اسپیکر نے ارکان کو بتایا کہ اس سلسلہ میں انہوں نے پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اسپیکر کے تیقن کے باوجود بی آر ایس ارکان نے احتجاج جاری رکھا جس پر وزیر وزیر امور مقننہ ڈی سریدھر بابو نے مداخلت کی اور کہا کہ حکومت نے اس معاملہ کا سختی سے نوٹ لیا ہے اور پولیس رپورٹ موصول ہوتے ہی خاطیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ بی آر ایس ارکان نے رکن کونسل مدھو کی جانب سے اسپیکر اسمبلی کے خلاف غیر پارلیمانی الفاظ پر افسوس کا اظہار تک نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کے خلاف بیان بازی کا کسی کو حق نہیں ہے۔ ریاستی وزیر لکشمن کمار نے بی آر ایس سربراہ کے سی آر سے مطالبہ کیا کہ وہ ایوان میں آکر اسپیکر سے معذرت خواہی کریں۔ ہریش راؤ نے کہا کہ خاتون ارکان اسمبلی کے ساتھ پولیس کے نازیبا رویہ کے ویڈیو ریکارڈنگ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاطی عہدیداروں کے خلاف کارروائی کے بجائے حکومت نے تینوں خاتون ارکان اسمبلی کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ریاستی وزیر ڈی انوسویا سیتکا نے بھی بی آر ایس ارکان کے رویہ پر تنقید کی اور کہا کہ خاتون ارکان اسمبلی کو آگے رکھ کر بی آر ایس سیاسی مقصد براری کا کھیل کھیل رہی ہے۔ ہریش راؤ نے وضاحت کی کہ بی آر ایس رکن کونسل ٹی مدھو نے تحریری بیان اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اسپیکر کے خلاف ریمارک پر غیر مشروط معذرت خواہی کی ہے۔ 1؍F/k/i
انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر اور وزیر امور مقننہ کو خاتون ارکان اسمبلی سے معذرت خواہی کرنی چاہئے۔ ایک طرف بی آر ایس ارکان تو دوسری طرف بی جے پی ارکان ایوان کے وسط میں اپنے اپنے مسائل پر احتجاج کو جاری رکھے ہوئے تھے۔ اسپیکر کی ہدایت پر مارشلس نے احتجاجی ارکان سے پلے کارڈس حاصل کرلئے۔ اسی دوران ہریش راؤ نے ساتھی ارکان کے ساتھ مارشلس کا حصار توڑ کر اسپیکر کے پوڈیم کی طرف بڑھنے کی کوشش کی جسے مارشلس نے ناکام بنادیا۔ ایوان میں شور و غل اور ہنگامہ آرائی کے درمیان اسپیکر پرساد کمار نے کارروائی کو 15 منٹ کے لئے ملتوی کردیا تاہم دوبارہ اجلاس کا آغاز تقریباً 3 گھنٹے بعد شروع ہوا۔ 1؍F