بی آر ایس اور بی جے پی میں کبھی مفاہمت نہیں ہوگی: مہیشور ریڈی

   

کانگریس اور بی آر ایس میں خفیہ مفاہمت کا الزام، کالیشورم دھاندلیوں کی سی بی آئی تحقیقات کا چیلنج
حیدرآباد۔/14فروری، ( سیاست نیوز) بی جے پی نے تلنگانہ حکومت کو چیلنج کیا کہ وہ کالیشورم اور میڈی گڈہ بیاریج کی تعمیرات میں بے قاعدگیوں کی سی بی آئی تحقیقات کیلئے مرکز کو مکتوب روانہ کرے۔ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں عبوری بجٹ پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے بی جے پی رکن مہیشور ریڈی نے بی آر ایس اور کانگریس میں خفیہ مفاہمت کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بی جے پی نے بی آر ایس کے ساتھ کبھی مفاہمت نہیں کی اور نہ ہی آئندہ اس کا کوئی امکان ہے۔ مہیشور ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں حکومت اور چیف منسٹر تبدیل ہوگئے لیکن غریب اور کمزور طبقات کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ عوام وعدوں پر عمل آوری کے سلسلہ میں اسمبلی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں وعدوں پر عمل آوری کا کوئی تذکرہ نہیں ہے جبکہ گورنر کے خطبہ میں وعدوں پر عمل کرنے کا تیقن دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 6 تیقنات کے نام پر کانگریس نے تلنگانہ میں اقتدار حاصل کیا لیکن بجٹ میں تیقنات کیلئے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔ سابق حکومت پر بھاری قرض حاصل کرنے کا الزام عائد کرنے والی کانگریس حکومت 65 ہزار کروڑ کا قرض کہاں سے ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی حکومت عوام پر ٹیکسوں کی شکل میں اضافی بوجھ عائد کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ مہیشور ریڈی نے کہا کہ بی آر ایس اور کانگریس دونوں ایک دوسرے پر الزام تراشی کے ذریعہ عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کے ذریعہ ایوان کا وقت ضائع کیا جارہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بی آر ایس کے ساتھ بی جے پی نے کبھی بھی مفاہمت نہیں کی اور نہ ہی آئندہ کوئی مفاہمت ہوگی برخلاف اس کے کانگریس اور بی آر ایس میں خفیہ مفاہمت کے امکانات روشن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ ارکان کیلئے پکنک سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ ارکان اسمبلی ٹیکنیکل پرسن نہیں ہیں لہذا انہیں پراجکٹ کا معائنہ کرانا مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے ریونت ریڈی کو یوٹرن چیف منسٹر قرار دیا اور کہا کہ وعدوں پر عمل آوری میں حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ مہیشور ریڈی نے کہا کہ اگر حکومت بے قاعدگیوں کو بے نقاب کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے سی بی آئی تحقیقات کیلئے مرکز کو مکتوب روانہ کرنا چاہیئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سی بی آئی ریاستی حکومت کی اجازت کے بغیر کسی بھی ریاست میں تحقیقات نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ ہائی کورٹ نے سیٹنگ جج فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے لہذا کانگریس حکومت کو سی بی آئی تحقیقات کیلئے مرکز کو مکتوب روانہ کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہاکہ دراصل بی آر ایس حکومت کو بچانے کیلئے کانگریس سی بی آئی تحقیقات کیلئے تیار نہیں ہے۔ اگر حکومت مرکز کو مکتوب روانہ کرتی ہے تو 48 گھنٹے میں سی بی آئی تحقیقات شروع کی جائیں گی۔1