بی آر ایس اور بی جے پی کا حال ’’ گلی میں کُشتی دلی میں دوستی‘‘

   

اسمبلی میں پونم پربھاکر کا ریمارک، 10 برسوں تک پارلیمنٹ میں مودی حکومت کو بی آر ایس کی تائید
حیدرآباد۔/14 فروری، ( سیاست نیوز) وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی اور بی آر ایس کا حال ’’ گلی میں کُشتی دلی میں دوستی‘‘ کی طرح ہے اور گذشتہ 10 برسوں میں بی آر ایس نے پارلیمنٹ میں مودی حکومت کے ہر قانون کی تائید کی ہے۔ تلنگانہ اسمبلی میں بجٹ پر مباحث کے دوران پونم پربھاکر نے بی جے پی رکن مہیشور ریڈی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس اور بی جے پی کی دوستی آج کی نہیں بلکہ دس برسوں سے جاری ہے۔ پارلیمنٹ میں نوٹ بندی، دفعہ 370 ، صدر جمہوریہ اور نائب صدر کا الیکشن اور دیگر بلز کی منظوری میں بی آر ایس نے مودی حکومت کی تائید کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے نریندر مودی سے ملاقات کرتے ہوئے کہا تھا کہ تلنگانہ کو صرف مودی کا پیار چاہیئے، یہ خود دونوں میں اٹوٹ دوستی کا ثبوت ہے۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور امیت شاہ نے حیدرآباد پہنچ کر بی آر ایس کو دنیا کی سب سے کرپٹ پارٹی قرار دیا لیکن آج تک کسی بھی معاملہ میں تحقیقات نہیں کرائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دس برسوں میں دونوں پارٹیوں نے خفیہ مفاہمت کے ذریعہ عوام کو گمراہ کیا۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ کے سی آر کے اشارہ پر بنڈی سنجے کو تبدیل کرتے ہوئے کشن ریڈی کو پارٹی صدر بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس اور بی جے پی میں دوستی آئندہ بھی برقرار رہے گی۔ انہوں نے بی جے پی رکن سے سوال کیا کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ آئندہ بی آر ایس سے بی جے پی کوئی اتحاد نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جس کسی نے بی جے پی کے خلاف آواز اٹھائی ان کا تعاقب سی بی آئی اور ای ڈی نے کیا۔ سیاستدانوں کے علاوہ صحافیوں کو بھی بخشا نہیں گیا لیکن گذشتہ دس برسوں میں مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں نے بی آر ایس کے خلاف ایک بھی کارروائی نہیں کی ہے جو خود دوستی کا ثبوت ہے۔1