بی آر ایس اور بی جے پی کو مخالف تلنگانہ رویہ ترک کرنے مہیش کمار گوڑ کا مشورہ

   

سیاست کو الیکشن تک محدود رکھیں، کونسل کے امیدواروں کا اندرون 3 یوم اعلان، بی آر ایس میں داخلی کشمکش
حیدرآباد 3 مارچ (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے الزام عائد کیاکہ بی آر ایس اور بی جے پی خفیہ مفاہمت کے ذریعہ تلنگانہ کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ دونوں پارٹیوں نے تلنگانہ کی ترقی کے خلاف مشترکہ موقف اختیار کیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ سیاسی اختلافات کو صرف انتخابات تک محدود رکھنا چاہئے اور انتخابات کے بعد ریاست اور عوام کی ترقی کے لئے تمام کو مشترکہ مساعی کرنی چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ مرکزی وزیر کشن ریڈی تلنگانہ کے لئے مرکز سے پراجکٹس اور فنڈس کے حصول میں اہم رول ادا کرنے کے بجائے ریاست کے پراجکٹس کی تکمیل میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ حیدرآباد میٹرو ٹرین کے توسیعی منصوبہ کے علاوہ موسی ریور فرنٹ پراجکٹ کے لئے مرکز سے فنڈس کی اجرائی میں کشن ریڈی رکاوٹ بن چکے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ طبقاتی سروے کی مخالفت کے ذریعہ دونوں پارٹیاں پسماندہ طبقات کے تحفظات میں اضافہ کی مخالفت کررہے ہیں۔ اُنھوں نے کشن ریڈی اور بنڈی سنجے کو مشورہ دیا کہ وہ تلنگانہ کی راہ میں رکاوٹ کے بجائے مرکز سے فنڈس کے حصول میں اہم رول ادا کریں۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ سے بی جے پی کے 8 ارکان پارلیمنٹ نے تلنگانہ سے انصاف کے لئے کوئی مساعی نہیں کی اور نہ وزیراعظم نریندر مودی سے فنڈس کی اجرائی کی اپیل کی۔ اُنھوں نے کہاکہ رگھونندن راؤ کانگریس پر پسماندہ طبقات سے ناانصافی کا الزام عائد کررہے ہیں۔ مہیش کمار گوڑ نے سوال کیاکہ جس وقت بنڈی سنجے کو صدارت سے ہٹاکر کشن ریڈی کو صدر مقرر کیا گیا اُس وقت رگھونندن راؤ کو بی سی طبقات سے ناانصافی کا خیال کیوں نہیں آیا۔ سکندرآباد سے بنڈارو دتاتریہ کے بجائے کشن ریڈی کو پارٹی ٹکٹ دینے پر رگھونندن راؤ خاموش کیوں رہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بی آر ایس میں کے ٹی آر، ہریش راؤ اور کویتا کے درمیان پارٹی پر کنٹرول حاصل کرنے کی دوڑ جاری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ کونسل کی نشستوں کے امیدواروں کا اندرون 3 یوم اعلان کردیا جائے گا۔ مختلف طبقات اور علاقوں کی نمائندگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے امیدواروں کا انتخاب ہوگا۔ اُنھوں نے منور کاپو طبقہ کے ساتھ ناانصافی کی شکایت کو مسترد کردیا اور کہاکہ کانگریس نے بی سی طبقات کو اہم عہدوں پر فائز کیا ہے۔ 1