بی آر ایس ملک میں این ڈی اے یا پھر انڈیا کے ساتھ نہیں: کے سی آر

   

Ferty9 Clinic

ہم اپنے دوستوں کے ساتھ، ملک میں تبدیلی کی سخت ضرورت
حیدرآباد۔/2اگسٹ، ( سیاست نیوز) پارلیمنٹ میں نریندر مودی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے متحدہ طور پر تحریک عدم اعتماد کی سرگرمیوں کے دوران بی آر ایس کے سربراہ و چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے واضح کردیا کہ ان کی پارٹی این ڈی اے یا پھر کانگریس زیر قیادت انڈیا اتحاد میں کسی کے ساتھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس تنہا نہیں ہے بلکہ وہ اپنے دوستوں کے درمیان ہے۔ مہاراشٹرا کے ایک روزہ دورہ سے واپسی کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے سی آر نے پہلی مرتبہ اپوزیشن اتحاد انڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس اتحاد میں نام کے علاوہ کونسی نئی بات ہے۔ کانگریس نے انڈیا کے نام سے اپنے حلیف ساتھیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔ کانگریس نے 50 برسوں سے زائد ملک پر حکمرانی کی لیکن کسی بھی شعبہ میں تبدیلی نہیں آئی۔ مرکز میں گذشتہ 9 برسوں سے برسراقتدار این ڈی اے اتحاد بھی تبدیلی لانے میں ناکام رہا۔ ملک میں تبدیلی کا وقت آچکا ہے اور یہ ضروری ہے۔ کے سی آر نے مہاراشٹرا میں پارٹی سرگرمیوں میں اضافہ کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ بی آر ایس نے الیکشن کا بگل بجادیا ہے اور مہاراشٹرا میں انتخابی تیاریاں جاری ہیں۔ تمام سطح پر تنظیمی کمیٹیاں تشکیل دی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹرا میں بنیادی سطح پر کام کرنے کیلئے 14.10 لاکھ افراد پر مشتمل فورس تشکیل دی گئی ہے۔ 50 فیصد تنظیمی کام بارش کے آغاز تک مکمل ہوگیا۔ آئندہ پندرہ تا بیس دنوں میں ہر گاؤں میں تنظیم سازی کا عمل مکمل کرلیا جائے گا جس کے تحت کارکن الیکشن کی تیاری میں جٹ جائیں گے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مہاراشٹرا میں قدرتی وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن افسوس کہ اورنگ آباد جیسا شہر شدید پانی کے بحران سے گذر رہا ہے۔ انہوں نے مہاراشٹرا میں دلت طبقات کی جدوجہد کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس طبقہ کے ساتھ ریاست میں مسلسل ناانصافی جاری ہے۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر کے سی آر نے نریندر مودی حکومت کے خلاف بی آر ایس کی جانب سے علحدہ تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی ارکان پارلیمنٹ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد پر مباحث کے دوران لوک سبھا میں موجود رہیں اور حکومت کے خلاف ووٹ دیں۔ بی آر ایس ارکان پارلیمنٹ دونوں ایوانوں میں روزانہ منی پور کی صورتحال پر مباحث کی مانگ کرتے ہوئے کارروائی میں رکاوٹ پیدا کررہی ہے۔