بی آر ایس پارٹی میں اختلافات اور گروپ بندیوں کا سلسلہ جاری

   

امیدوار راکیش ریڈی پر ناراضگی، مدعو 130 قائدین کے منجملہ صرف 55 نے کی شرکت

حیدرآباد ۔ 15 مئی (سیاست نیوز) بی آر ایس پارٹی میں آج پھر ایک مرتبہ اختلافات اور گروپ بندیاں ابھر کر سامنے آئی جس پر بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر حیرت زدہ ہوگئے۔ نلگنڈہ، ورنگل، کھمم گریجویٹ کوٹہ کونسل کے ضمنی انتخاب کا جائزہ لینے کیلئے تلنگانہ بھون میں تینوں اضلاع کے 130 اہم قائدین کو مدعو کیا گیا تھا تاہم صرف 55 قائدین نے شرکت کی۔ ضلع ورنگل کی نمائندگی کرنے والے بیشتر قائدین نے بی جے پی سے بی آر ایس میں شامل ہونے والے راکیش ریڈی کو امیدوار بنانے کی سخت مخالفت کی۔ امیدوار کا اعلان کرنے سے قبل مقامی قائدین کو اعتماد میں نہ لینے کا پارٹی قیادت پر الزام عائد کیا گیا۔ اس اجلاس میں سابق وزیر ای دیاکر راؤ کے علاوہ سابق ارکان اسمبلی کے ساتھ موجودہ ارکان قانون ساز کونسل نے بھی شرکت نہیں کی۔ بیشتر قائدین بی آر ایس کے رکن اسمبلی پی راجیشور ریڈی کے حامی راکیش ریڈی کو امیدوار بنانے کی سخت مخالفت کی۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کے ٹی آر کے اصرار پر سابق گورنمنٹ چیف وہپ ونئے بھاسکر کے علاوہ دوسرے قائدین نے شرکت کی ہے۔ واضح رہے کہ گریجویٹ کوٹہ کونسل کیلئے 27 مئی کو رائے دہی ہوگی اور 5 جون کو ووٹوں کی گنتی ہوگی جس کیلئے 12 اضلاع کے حدود میں رائے دہی ہوگی۔ کل تک لوک سبھا کے انتخابات اور پارٹی کے حق میں ہونے والی رائے دہی کا جائزہ لینے میں مصروف رہنے والے بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے آج تلنگانہ بھون میں تینوں اضلاع کی نمائندگی کرنے والے سابق وزرا، ارکان اسمبلی سابق ارکان اسمبلی، ارکان قانون ساز کونسل، ضلع پرجا پریشد صدور نشین کے علاوہ دیگر اہم قائدین کا اجلاس طلب کیا اور کہا کہ یہ گریجویٹ حلقہ بی آر ایس کا مضبوط قلعہ ہے اور اسمبلی انتخابات تک اس حلقہ پر بی آر ایس کی نمائندگی تھی۔ اس حلقہ کی نمائندگی کرنے والے ایم ایل سی اسمبلی انتخابات میں جنگاؤں سے ایم ایل اے بن گئے ہیں جس کی وجہ سے ضمنی انتخاب منعقد ہو رہا ہے۔ پارٹی قائدین آپسی اور نظریاتی اختلافات کو فراموش کرتے ہوئے پارٹی کے مفادات کو ترجیح دیں۔ پارٹی کے صدر کے سی آر نے راکیش ریڈی کو امیدوار بنایا ہے۔ انہیں بھاری اکثریت سے کامیاب بنانا پارٹی کے تمام قائدین کی ذمہ داری ہے۔ پارٹی کے تمام قائدین بغیر کسی تاخیر کے راکیش ریڈی کے حق میں انتخابی مہم کا آغاز کریں۔ لوک سبھا انتخابات کے بعد ٹی آر ایس قائدین میں بے چینی کی کیفیت دیکھی جارہی ہے اور اختلافات نمایاں ہو رہے ہیں۔ 2