میدک لوک سبھا سے کے سی آر ضرورت پڑنے پر کے ٹی آر اور ہریش راؤ کو بھی مقابلہ کرانے پر غور
حیدرآباد ۔ 13 جنوری (سیاست نیوز) بی آر ایس پارٹی اسمبلی انتخابات میں اپنی شکست کا جائزہ لے رہی ہے۔ پارٹی کے بیشتر قائدین علاقائی جماعت کو قومی جماعت میں تبدیل کرنے اور پارٹی کے نام سے تلنگانہ کو ہٹادینے کی مخالفت کرتے ہوئے بی آر ایس کو دوبارہ ٹی آر ایس میں تبدیل کردینے پر زور دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پارٹی کے دوسرے ارکان اس تجویز کی مکمل تائید و حمایت کررہے ہیں۔ تلنگانہ بھون میں بی آر ایس پارٹی کی جانب سے لوک سبھا انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا جارہا ہے، جس میں بیشتر قائدین پارٹی کے نام سے تلنگانہ کو ہٹادینے پر پارٹی کو شکست ہونے کا دعویٰ کررہے ہیں۔ پارٹی کارکنوں کی رائے حاصل کئے بغیر پارٹی کا نام تبدیل کردینے پر بھی اعتراض کررہے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ پارٹی کے سینئر قائد سابق ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری بھی بی آر ایس کو ٹی آر ایس میں تبدیل کرنے کی تائید کررہے ہیں۔ پارٹی کے بانی کارکنوں کو نظرانداز کردینے کی بھی پارٹی قیادت سے شکایت کی گئی ہے۔ پارٹی کے ذرائع کے بموجب اسمبلی میں شکست کے بعد مایوس کیڈر میں نیا جوش و خروش پیدا کرنے کیلئے بی آر ایس قیادت اس مرتبہ لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کے طاقتور قائدین کو امیدوار بنانے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ حلقہ لوک سبھا میدک سے بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر کو امیدوار بنانے کا جائزہ لیا جارہا ہے اور اس سلسلہ میں پارٹی قائدین سے تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔ ضرورت پڑنے پر کے ٹی آر اور ہریش راؤ کو بھی امیدوار بنانے پر غور کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب اسمبلی اجلاس میں کے ٹی آر اور ہریش راؤ کی جانب سے حکومت کے خلاف اپنائے گئے سخت گیر موقف کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ اگر دونوں قائدین لوک سبھا انتخابات میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو ان کی جگہ اسمبلی میں کون پورا کریں گے، کونسے قائدین کو یہ ذمہ داری پیش کی جائے گی اس پر بھی غور کیا جارہا ہے۔2