بدعنوانیوں کو چھپانے قومی پارٹی ، ذاتی طیارہ خریدنے پر تنقید
حیدرآباد ۔6 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) بی جے پی کے ریاستی صدر بنڈی سنجے نے کہا کہ کے سی آر کی اعلان کردہ قومی سیاسی پارٹی کا کوئی جھنڈا اور ایجنڈہ نہیں ہے۔ حیدرآباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بنڈی سنجے نے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ نئی قومی سیاسی جماعت میں کونسے قائدین ہیں۔ اس سلسلہ میں کے سی آر کو وضاحت کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کے سی آر سے مطالبہ کیا کہ قومی سیاسی پارٹی کے قیام کے مقاصد سے عوام کو واقف کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے نئی پارٹی کے اعلان سے قبل کم از کم اپنے قائدین سے مشاورت تک نہیں کی۔ کسی کی رائے حاصل کئے بغیر ہی یکطرفہ طور پر پارٹی کا اعلان کردیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی مخالفت میں قومی سطح پر محاذ کی تیاری کے مقصد سے یہ سرگرمیاں شروع کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کو چھپانے کیلئے قومی پارٹی قائم کی گئی۔ بنڈی سنجے نے کہا کہ جہاں تک مجھے علم ہے، ذاتی طیارہ دو افراد نے خریدا ہے ۔ ایک کے اے پال اور دوسرے کے سی آر ۔ مستقبل میں ان دونوں کے درمیان مفاہمت رہے گی ۔ بیٹے کو چیف منسٹر بنانے کی کے سی آر کو کافی عجلت ہے۔ کے سی آر شراب اسکام میں ای ڈی کی کارروائیوں سے بچنا چاہتے ہیں۔ منوگوڑ ضمنی چناؤ میں کے سی آر کی بدعنوانیوں کے عوام میں بے نقاب ہونے کے خوف سے نئی پارٹی کا اعلان کیا گیا ۔ بی جے پی صدر نے کہا کہ تلنگانہ عوام نے ٹی آر ایس کے حق میں ووٹ دیا لیکن کے سی آر نے عوامی رائے کی مخالفت کرتے ہوئے نام تبدیل کردیا۔ بی جے پی صدر نے کہا کہ کے سی آر کو چیف منسٹر کے عہدہ پر برقراری کا اخلاقی حق نہیں ہے ۔ بنڈی سنجے نے کے سی آر کو چیلنج کیا کہ اگر عوامی تائید کا یقین ہو تو حکومت تحلیل کرتے ہوئے بی آر ایس کے نام پر انتخابات میں حصہ لیں۔ ٹی آر ایس کے نام پر منوگوڑ میں ووٹ مانگنے کا کے سی آر کو کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے پیش قیاسی کی کہ دیگر جماعتوں کی طرح بی آر ایس کا بھی حشر ہوگا۔ر