ریونت ریڈی حکومت زمینوں کی بندر بانٹ میں مصروف ، ہریش راؤ کا الزام
حیدرآباد ۔ 22 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے کانگریس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی کی پالیسیوں کی مذزت کی ۔ بیرونی ملک کے دورے پر رہنے والے ہریش راؤ نے مقامی میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سنسنی خیز اعلان کیا کہ تلنگانہ میں بی آر ایس کے دوبارہ اقتدار میں آتے ہی سب سے پہلے فیوچر سٹی کے منصوبے کو منسوخ کردیا جائے گا ۔ انہوں نے کانگریس حکومت پر سنگین الزام عائد کیا کہ وہ فیوچر سٹی کے خوبصورت نام کے پیچھے دراصل کسانوں کی قیمتی اراضیات پر رئیل اسٹیٹ کا کالا کاروبار کررہی ہے اور کچھ مخصوص لوگوں کو فائدہ پہونچانے کے لیے زمینوں کی بندر بانٹ کے لیے وسیع منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ سابق وزیر نے واضح کیا کہ مرکزی وزارت ماحولیات نے صرف فارما سٹی کی منظوری دی تھی ۔ جس کی رو سے اس پورے پراجکٹ کا 75 فیصد حصہ فارما صنعت اور صرف 25 فیصد حصہ دیگر متعلقہ شعبوں کے لیے ہونا چاہئے تھا ۔ لیکن ریونت ریڈی حکومت قانون کی مکمل خلاف ورزی کررہی ہے ۔ 75 فیصد حصہ رئیل اسٹیٹ کاروبار اور محض 25 فیصد حصہ فارما کے لیے مختص کررہی ہے جو کہ کسی بھی صورت میں قانوناً درست نہیں ہے ۔ ہریش راؤ نے ماضی کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ فارما سٹی کا یہ عظیم الشان منصوبہ بی آر ایس دور حکومت میں شروع کیا گیا تھا اور ان کی حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا تھا کہ ملک کی ایک بڑی فارما کمپنی ریاست سے باہر نہ جائے کیوں کہ اس پراجکٹ کے آنے سے لاکھوں مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملنے تھے ۔ ہریش راؤ نے واضح کیا کہ کانگریس محض اس خوف سے فارما سٹی کو ترقی نہیں دے رہی کہ کہیں اس کا سہرا بی آر ایس پارٹی کے سر نہ بندھ جائے ۔ لیکن وہ یہ صاف کردینا چاہتے ہیں کہ فارما سٹی اپنی اصل اور حقیقی شکل میں وہیں ضرور قائم ہوگا اور غریب کسانوں اور نوجوانوں کے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا ۔۔ 2/m/b