کام کے بجائے صرف تشہیر کی جاتی تو بی آر ایس کامیاب ہوتی : کے ٹی آر
حیدرآباد ۔ 11 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ 14 اسمبلی حلقوں میں بی آر ایس کو صرف 6 ہزار ووٹوں کے فرق سے شکست ہوئی ہے ۔ اگر کام کے بجائے صرف تشہیر پر توجہ دی جاتی تو بی آر ایس کایاب ہوجاتی تھی ۔ کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان کامیابی و شکست میں صرف 1.85 فیصد ووٹوں کا فرق ہے ۔ تلنگانہ بھون یں حلقہ لوک سبھا محبوب آباد کے پارٹی قائدین کا اجلاس طلب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ 6 گیارنٹی کا اعلان کیا گیا مگر کانگریس نے عوام سے 420 وعدے کئے ہیں ۔ کانگریس قائدین کی جھوٹی تشہیر سے ریاست کے عوام گمراہ ہوگئے ۔ 10 سال تک بہترین و شفاف حکمرانی پیش کرنے والی بی آر ایس حکومت کو شکست دے دی ۔ بی آر ایس حکومت پر راشن کارڈس جاری نہ کرنے کا جھوٹا الزام عائد کیا گیا ۔ بی آر ایس کے ساڑھے 9 سالہ دور حکومت یں 6,47,479 راشن کارڈس جاری کئے گئے ۔ ملک میں سب سے زیادہ سرکاری ملازمتیں تلنگانہ میں دی گئی ۔ جس کی بی آر ایس نے تشہیر نہیں کی ۔ سرکاری ملازمین کو ملک میں سب سے زیادہ تنخواہیں تلنگانہ میں ہے اس پر بھی عوام میں شعور بیدار نہیں کیا گیا ۔ بی آر ایس کے دور حکومت میں کے سی آر نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 73 فیصد اضافہ کیا ۔ آسرا پنشن کو 29 لاکھ سے بڑھاکر 46 لاکھ تک کردیا گیا ۔ اس کی بھی بڑے پیمانے پر تشہیر نہیں کی گئی ۔ فلاحی اسکیمات سے فائدہ پہونچانے کے لیے عوام کو کبھی قطاروں میں کھڑا نہیں کیا گیا ۔ مقامی اداروں سے اسمبلی سطح تک بی آر ایس کے پاس طاقتور کیڈر موجود ہے ۔ لوک سبھا انتخابات میں زیادہ سے زیادہ حلقوں پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے پارٹی کیڈر کو ابھی سے متحرک ہوجانے کی ضرورت ہے ۔ عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے بجائے چیف منسٹر ٹال مٹول کی پالیسی اپناتے ہوئے وقت ضائع کررہے ہیں ۔ اسمبلی انتخابات میں شکست سے پارٹی کارکنوں کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس طرح کے پارٹی اجلاس منعقد کرتے ہوئے نئے جوش و خروش سے لوک سبھا انتخابات کی تیاریاں کرنے کی ضرورت ہے ۔ سماج کے تمام طبقات کے قریب ہونے کی پارٹی حکمت عملی تیار کرے گی ۔۔ 2