بی آر ایس کی سرگرمیوں سے زیادہ کے سی آر تلنگانہ میں دوبارہ اقتدار کیلئے فکر مند

   


عوامی سروے کے نتائج باعث تشویش، ناقص کارکردگی پر 50 موجودہ ارکان اسمبلی کو ٹکٹ سے محرومی کا اندیشہ

حیدرآباد۔/8 جنوری، ( سیاست نیوز) قومی سیاست میں حصہ لینے ٹی آر ایس کو بی آر ایس میں تبدیل کرنے کے بعد تلنگانہ میں اقتدار کی واپسی چیف منسٹر کے سی آر کیلئے چیلنج بن چکی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کے سی آر نے پارٹی کے نام کی تبدیلی کے بعد عوامی رائے جاننے کیلئے کئی سروے منعقد کئے جن کے نتائج چونکا دینے والے رہے ہیں۔ سروے میں عوام کی اکثریت نے پارٹی کے نام کی تبدیلی اور خاص طور پر لفظ تلنگانہ کو پارٹی کے نام سے علحدہ کرنے پر ناراضگی جتائی ہے۔ علحدہ ریاست کے حصول کیلئے ٹی آر ایس قائم کی گئی تھی اور عوام نے مسلسل دو مرتبہ اقتدار حوالے کیا۔ اب جبکہ ٹی آر ایس کا نام بدل کر بی آر ایس ہوچکا ہے لہذا چیف منسٹر اسمبلی انتخابات کے بارے میں فکر مند ہوچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے ڈسمبر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کیلئے پارٹی امیدواروں کے ناموں کا الیکشن سے تین ماہ قبل اعلان کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ امیدواروں کو مہم کیلئے مناسب وقت حاصل ہو۔ چیف منسٹر نے ارکان اسمبلی کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے بھی سروے کا سہارا لیا جس میں بیشتر ارکان اسمبلی کی کارکردگی عوامی توقعات کے برخلاف پائی گئی۔ ناقص کارکردگی اور عوامی ناراضگی کا سامنا کرنے والے ارکان اسمبلی کو دوبارہ ٹکٹ نہیں دیا جائے گا۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کے مطابق موجودہ ارکان اسمبلی میں تقریباً 50 ایسے ہیں جو ٹکٹ سے محروم کئے جاسکتے ہیں ان میں 8 ریاستی وزراء بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق سیاسی حکمت عملی ساز پرشانت کشور نے ارکان اسمبلی کی کارکردگی کے بارے میں جو رپورٹ پیش کی تھی اس کے عین مطابق تازہ سروے کے نتائج بھی منظر عام پر آئے۔ چیف منسٹر نے ناقص کارکردگی کے حامل ارکان اسمبلی کو بارہا متنبہ کیا لیکن بتایا جاتا ہے کہ ان کے رویہ میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی اور عوام کی رائے بھی تبدیل نہیں ہوئی۔ لہذا ایسے ارکان کو ٹکٹ سے محروم کیا جاسکتا ہے۔ 2018 میں کے سی آر نے الیکشن سے کچھ عرصہ قبل امیدواروں کو قطعیت دیتے ہوئے انہیں انتخابی مہم کیلئے وقت دیا تھا۔ اب جبکہ کے سی آر کو ملک کی کئی ریاستوں میں بی آر ایس کی توسیع کیلئے کام کرنا ہے لہذا وہ تلنگانہ میں اقتدار کی واپسی کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کرچکے ہیں۔ سی پی آئی اور سی پی ایم سے امکانی مفاہمت کے باعث کئی موجودہ ارکان دوبارہ ٹکٹ کے بارے میں فکر مند ہیں۔ کھمم اور نلگنڈہ ضلع میں بائیں بازو کی جماعتوں نے تقریباً 15 اسمبلی حلقہ جات پر اپنی دعویداری پیش کردی ہے۔ 2018 میں اسمبلی کی میعاد سے 9 ماہ قبل ہی کے سی آر نے اسمبلی تحلیل کرتے ہوئے انتخابات کا سامنا کیا تھا۔ ٹی آر ایس کو 119 میں سے 88 نشستیں حاصل ہوئیں جبکہ علحدہ ریاست کے حصول کے بعد 2014 میں اسے 63 نشستوں پر کامیابی ملی تھی۔ر