بی آر ایس کے بعد بی جے پی ارکان بھی چیف منسٹر کے رابطہ میں

   

سرپور کاغذ نگر کے رکن اسمبلی ہریش بابو کی ریونت ریڈی سے ان کی قیامگاہ پر ملاقات

حیدرآباد۔21فروری(سیاست نیوز) بی آر ایس سے تعلق رکھنے والے کئی ارکان اسمبلی کی چیف منسٹر اے ریونت ریڈی سے ملاقات کے بعد شروع ہونے والی قیاس آرائیاں پر اب بھارتیہ جنتا پارٹی کا رخ اختیار کرچکی ہیں کیونکہ بی جے پی رکن اسمبلی مسٹر پی ہریش بابو نے چیف منسٹر سے ان کے مکان پر ملاقات کی۔ سرپور کاغذنگر حلقہ اسمبلی سے منتخب ہونے والے رکن اسمبلی مسٹر پی ہریش بابو کی چیف منسٹر سے ملاقات کے بعد کہا جا رہاہے کہ وہ بی جے پی سے قطع تعلق کرتے ہوئے کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ رکن اسمبلی سرپور کاغذ نگر پارٹی کی سرگرمیوں سے خود کو دور رکھے ہوئے ہیں اورلوک سبھا انتخابات کے سلسلہ میں جاری پروگرامس میں بھی وہ حصہ نہیں لے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود چیف منسٹر اے ریونت ریڈی سے ان کی ملاقات پر کہا جا رہاہے کہ وہ پارٹی سے لاتعلقی کا فیصلہ کرچکے ہیں لیکن قوانین مقننہ کے مطابق اس بات کا اعلان نہیں کر رہے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ چیف منسٹر سے ان کے مکان پر بی جے پی رکن اسمبلی کے علاوہ جی ایچ ایم سی میں موجود بی جے پی رکن بلدیہ نے بھی ملاقات کرتے ہوئے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ رکن بلدیہ کے نرسمہا ریڈی کی ملاقات کو بھی سیاسی حلقوں میں وفاداریوں کو تبدیل کرنے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کا کہناہے کہ ریاست میں کانگریس کے برسر اقتدار آنے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں بالخصوص بھارت راشٹرسمیتی کے علاوہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کئی قائدین کانگریس میں شمولیت کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور چیف منسٹر اے ریونت ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے اپنی رائے ظاہر کرنے لگے ہیں لیکن منتخبہ نمائندوں کو فوری طور پر پارٹی میں شامل کرنے کے سلسلہ میں چیف منسٹر فوری طور پر فیصلہ کرنے کے بجائے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں۔چیف منسٹر سے بی آر ایس قائدین کی ملاقاتوں کے بعد اب بی جے پی قائدین کی ملاقات کے سلسلہ پر سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اے ریونت ریڈی تلنگانہ میں دیگر سیاسی جماعتو ںکو کمزور کرنے کی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہیں لیکن و ہ اس سلسلہ میں جلدبازی کرنے کے بجائے اطمینان سے قوانین کے مطابق منتخبہ نمائندوں کو پارٹی میں شامل کروانے کے حق میں ہیں ۔ذرائع کے مطابق لوک سبھا انتخابات سے قبل بی آر ایس اور بی جے پی کو کانگریس کی جانب سے بڑا دھکا دینے کی تیاری کی جا رہی ہے اور دونوں ہی سیاسی جماعتوں کے قائدین اپنے ارکان اسمبلی اور کارپوریٹرس کے علاوہ اہم قائدین کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ۔3